آخری وقت اشاعت:  اتوار 13 جون 2010 ,‭ 09:34 GMT 14:34 PST

کرغزستان:شرپسندوں کوگولی مارنےکاحکم

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

وسط ایشیائی ریاست کرغزستان میں تین روز سے جاری پرتشدد نسلی فساد میں اسّی کے قریب ہلاکتوں کے بعد عبوری حکومت نے سکیورٹی فورسز کو شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے اختیارات دے دیے ہیں۔

فوج کو جنوبی شہر اوش اور جلال آباد میں کرفیو کے علاقوں میں عام شہریوں کے تحفظ، اپنے دفاع اور بڑے پیمانے پر مسلح حملے کی صورت میں گولی چلانے کا حکم دیا گیا ہے۔

کلِک اوش:’ایک پاکستانی ہلاک، سو محصور‘

نگران حکومت نے جرائم پیشہ عناصر اور فسادات میں ملوث طاقتوں کو کچلنے کے لیے فوج کے کچھ دستوں کو متحرک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر روس کا کہنا ہے کہ وہ کرغزستان میں اپنی فوج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ سنیچر کو کرغزستان کی عبوری حکومت نے روس سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنی فوجیں علاقے میں بھیجے تاکہ امن قائم ہو سکے۔

اوش میں پرتشدد نسلی فساد کا سلسلہ دو روز سے جاری ہے اور حکام کے مطابق ایک ہزار سے زائد افراد کے زخمی بھی ہو چکے ہیں۔دریں اثنا کرغزستان کے جنوبی شہر اوش سے ہزاروں ازبک افراد نقل مکانی کر رہے ہیں۔

اوش سے ہزاروں ازبک افراد نقل مکانی کر رہے ہیں۔

ازبکستان کی سرحد پر موجود عینی شاہدین نے نامہ نگاروں کو بتایا ہے کہ مسلح کرغز گروہ سرحد سے متصل علاقوں میں شہریوں کو ہلاک اور گھروں کو نذر آتش کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ کرغز اور ازبک آبادی کے درمیان یہ جھڑپیں جمعرات کی رات شروع ہوئی تھیں اور پھر شہر کی گلیاں میدانِ جنگ کا منظر پیش کرنے لگیں۔ تاحال ان فسادات کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ ان جھڑپوں کے بعد حکام نے اوش اور اس سے ملحقہ قصبات میں ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے کرفیو لگا دیا تھا اور بکتربند گاڑیاں علاقے میں بھیج دی تھیں۔

عالمی امدادی ادارے آئی سی آر سی کا کہنا ہے کہ اسے ملنے والی اطلاعات کے مطابق علاقے میں لڑائی اور لوٹ مار کے واقعات کی وجہ سے ہزاروں افراد نقل مکانی کر رہے ہیں۔

گھنٹوں کے حساب سے صورتحال بدترین ہوتی جا رہی ہے، علاقے میں بجلی اور گیس منقطع ہو چکی ہے، اس کا مطلب ہے کہ وہاں پانی کی سپلائی بھی دستیاب نہیں ہے۔ بازار اور دکانیں کے بند ہونے کی وجہ سے ہسپتالوں اور محصور افراد کو خوراک میسر نہ ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں

آئی سی آر سی

کرغزستان میں میں آئی سی آر سی مشن کے سربراہ نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’گھنٹوں کے حساب سے صورتحال بدترین ہوتی جا رہی ہے، علاقے میں بجلی اور گیس منقطع ہو چکی ہے، اس کا مطلب ہے کہ وہاں پانی کی سپلائی بھی دستیاب نہیں ہے۔ بازار اور دکانیں کے بند ہونے کی وجہ سے ہسپتالوں اور محصور افراد کو خوراک میسر نہ ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں‘۔

خیال رہے کہ اوش شہر میں زیادہ تر آبادی ازبک ہے اور اسے سابق صدر قربان بیگ باقیوف کا مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ باقیوف کو گزشتہ اپریل میں پرتشدد مظاہروں کے بعد اقتدار سے الگ کر دیا گیا تھا۔ بے چینی کا سلسلہ اس کے بعد سے جاری ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ اوش میں ہونے والے فسادات ان کی علیحدگی کے بعد ہونے والے بدترین فسادات ہیں۔

اپریل میں سابق کرغز صدر قربان بیگ باقیوف کی برطرفی کے وقت شروع ہونے والے فسادات میں ایک ہزار افراد زخمی ہوئے تھے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔