فلوٹیلا انکوائری: اسرائیلی تجویز مسترد

ترکی اور فلسطینیوں نے اکتیس مئی کو فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کے حوالے سے اسرائیل کی جانب سے انکوائری کی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس حملے کی آزاد اور شفاف تحقیقات نہیں کرسکتا جس میں نو ترکی کے باشندے ہلاک ہوئے تھے۔

فلسطینی رہنما محمود عباس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کا جانب سے اس واقعے کی تحقیقات اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جانب سے عائد کی گئی شرائط پر پورا نہیں اترے گی۔

دوسری جانب مشرق وسطیٰ کے ایلچی ٹونی بلیئر نے امید ظاہر کی ہے کہ اسرائیل غزہ میں امدادی سامان لے جانے کی اجازت دے دے گا۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی جانب سے غیر ملکی تحقیقات کی تجویز کو رد کردیا تھا۔ تاہم بعد میں اسرائیل نے اعلان کیا کہ وہ ایک تحقیقاتی ٹیم مرتب دے رہا ہے جس میں دو غیر ملکی مشاہدین بھی ہوں گے۔

اسرائیلی جانب سے بنائی گئی تین رکنی تحقیقاتی ٹیم میں اسرائیلی سپریم کورٹ کے سابق جج، اسرائیلی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل اور ترانوے سالہ بین الاقوامی قانون کے ماہر شامل ہیں۔

اسرائیلی کے مطابق دو غیر ملکی ماہرین تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے کیے جانے والے انٹرویو اور تحقیقات میں تو موجود رہیں گے لیکن ان کا رپورٹ میں کوئی عمل دخل نہیں ہو گا۔

یاد رہے کہ اکتیس مئی کے حملے کے بعد اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے فوری، غیر جانبدار، آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

ترکی کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے ’ہمیں اسرائیلی کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات پر اعتماد نہیں ہے۔ جو ملک بین الاقوامی سمندروں میں اس قسم کا حملہ کر سکتی ہے وہ غیر جانبدار تحقیقات کیا کرے گی۔‘

محمود عباس نے پیرس میں کہا ’اسرائیل غزہ سے بلاک اٹھائے اور یہی ہمارا مطالبہ ہے۔‘

دوسری جان عالمی تنظیم ریڈ کراس نے اسرائیلی کا جانب سے غزہ کے محاصے کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ غزہ سے مستقل طور پر محاصہ اٹھایا جائے۔

اسی بارے میں