میڈ اِن چائنا ماڈل بدلنے کو ہے: چینی اخبار

Image caption چین کے لگ بھگ ایک چوتھائی مزدور ایسے ہیں جن کی تنخواہوں میں گزشتہ پانچ برس کے دوران اضافہ نہیں ہوا۔

چین کے ایک با اثر اخبار نے جسے ’حکمراں جماعت کا جریدہ‘ کہا جاتا ہے، ایک تبصرے میں کہا ہے کہ مزدوروں کی آمدنی میں اضافہ کیا جائے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ معاشرے کی ہیئت تبدیل کرنے اور اسحتکام کو محفوظ بنانے کے لیے تنخواہوں میں اضافہ بہت ضروری ہے۔

اخبار پیپلز ڈیلی نے تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’میڈ اِن چائنا‘ ماڈل اب بدلنے کو ہے۔

اخبار میں ان ہڑتالوں کا ذکر نہیں کیا گیا جن کی وجہ سے غیر ملکی کثیرالقومی کمپنیاں متاثر ہو رہی ہیں اور جس کا ذکر بھی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کے لیے ایک حساس مسئلہ ہے۔

شہنگائی سے بی بی سی کے نامہ نگار کرس ہوگ نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ پیپلز ڈیلی نامی اخبار جس میں مزدوروں کی تنخواہوں میں اضافے کی بات کی گئی ہے، حکمراں جماعت کا سرکاری اخبار ہے۔ تجزیہ کار اس اخبار کے صفحات کو کھنگال کر ایسے اشارے تلاش کرتے ہیں جس سے حکمران جماعت کی سوچ کا اندازہ ہوتا ہے۔

اس ہفتے کے اوئل میں چین کے وزیرِ اعظم وین جیاباؤ نے مزدور طبقے سے کہا تھا کہ وہ باہر سے آنے والے کارکنوں کا زیادہ خیال رکھیں۔

اخبار کے مطابق مزدوروں کی تنخواہیں زیادہ ہونی چاہیئیں اور وقت آ گیا ہے کہ امیر اور غریب کے درمیان حائل خلیج کو ختم کیا جائے۔

آل چائنا فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز کا کہنا ہے کہ چین کے لگ بھگ ایک چوتھائی مزدور ایسے ہیں جن کی تنخواہوں میں گزشتہ پانچ برس کے دوران اضافہ نہیں ہوا۔

البتہ کچھ ایسے مزدور جنھوں نے حالیہ ہفتوں میں تنخواوں میں اضافے کے لیے ہڑتال کی ہے، یہ الزام لگاتے ہیں کہ مقامی اہلکار اور فیکٹری کی انتظامیہ مزدوروں کو مطالبے پورے ہونے سے قبل ہی کام شروع کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

یہ خبریں بھی شائع ہوئی ہیں کہ چینی میڈیا کو گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ہونے والی ہڑتالوں کی کوریج سے بھی باز رکھا گیا ہے۔ اور جو کوریج ہوئی بھی ہے، وہ ان کمپنیوں کی طرف مرکوز رہی ہے جوغیر ملکیوں کی ملکیت ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ کارکن سمجھتے ہیں کہ اگر وہ غیرملکی کمپنیوں میں ہڑتالیں کریں گے تو یہ کمپنیاں اپنی شہرت بچانے کے لیے مسئلہ حل کر دیں گی۔