کِرغزستان فسادات: ’منصوبہ بندی کے تحت‘

کرغز فوجی

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کو کرغزستان سے ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ فسادات ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیے گئے تھے اور ان میں ازبک آبادی کو ہی نشانہ بنایا گیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق وہ ان اطلاعات کی تصدیق کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک ترجمان روپرٹ کولوِیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ازبک آبادی کو ہی اس تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس تشدد میں قتل کے علاوہ ریپ کے واقعات بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کہ یہ سب اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

ازبک باشندوں نے بتایا ہے کہ کرغز فوجیوں نے ان کو نشانہ بنا کر ان پر فائرنگ کی تھی۔ اوش سے آنے والے ازبک پناہ گزینوں نے بتایا ہے کہ پہلے فوج کی بکتر بند گاڑیوں سے ازبک محلوں کی سڑکوں پر فائرنگ کی گئی اور پھر مسلح گروہوں نے آکر وہاں کے ازبک رہایئشوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

کرغزستان کی عبوری حکومت نے ان فسادات کا ذمہ دار معزول صدر قرمان بیک باکی یوف کے حامیوں کو ٹھہرایا ہے تاہم بلارس میں جلا وطن معزول رہنما نے ان نسلی فسادات سے کسی طرح کے تعلق کے الزام سے انکار کیا ہے۔

کِرغزستان میں فسادات سے بچنے کے لیے ازبک قبائلیوں کی نقل مکانی ہو رہی ہے لیکن ازبکستان نے خبردار کیا تھا کہ وہ اپنے ملک کی سرحدیں بند کردے گا۔

کیونکہ وہ مزید مہاجرین کو نہیں سنبھال سکتے۔ اس وقت ہزاروں ازبک مہاجرین کیمپوں میں موجود ہیں جبکہ ہزاروں سرحد پر جمع ہیں۔

اقوام متحدہ میں سیاسی امور کی نائب سکریٹری جنرل لِن پاسکو نے کہا ہے کہ فسادات سے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے اب امداد اور پناہ کا انتظام کرنے کے لیے ’ہیومینیٹیریئن کوریڈور‘ یعنی محفوظ راستہ قائم کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے پیر کے روز سلامتی کونسل کو کرغزستان کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی اور بعد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے فوری امداد پہنچانے کی اہمیت پر زور دیا۔

بین الاقوامی تنظیم ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اس لڑائی کے بعد سے کرغزستان کے تقریباً پچانوے ہزار ازبک ازبکستان جا چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ نوی پلئی کے مطابق انہوں نے کرغزستان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس لڑائی کو ختم کرنے کے لیے جلد سے جلد مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سراسر نسلی فسادات ہیں جن میں چن چن کر لوگوں کو مارا جا رہا ہے۔

نوی پلئی کے مطابق جنوبی کرغستان سے جنسی زیادتی اور بچوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کرغزستان حکومت کی جانب سے دیکھتے ہی گولی مار دینے کے حکم سے صورتحال پر قابو نہیں پایا جا سکتا، اور ایسے حالات میں انسانی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بارے میں