آئل سپل: معاوضے کی ادائیگی کے لیے فنڈ

امریکی صدر براک اوباما نے اعلان کیا ہے کہ برٹش پیٹرولیم کمپنی خلیج میکسیکو میں تیل کے رساؤ سے ہونے والے نقصان کا معاوضہ ادا کرنے کے لیے بیس ارب ڈالر کا خصوصی فنڈ قائم کرے گی اور کمپنی شیئر ہولڈرز کو ڈیویڈنڈ نہیں دے گی۔

Image caption برٹش پیٹرولیم کی وائٹ ہاؤس میں صدر براک اوباما اور متعلقہ اہلکاروں سے ملاقات ہوئی ہے

صدر اوباما نے بی پی کے ساتھ طے پائے جانے والے معاہدے کے اعلان کیا۔

اس اعلان کے بعد برٹش پیٹرولیئم کے چیئرمین کارل ہینرک نے کہا کہ اس سال شیئر ہولڈرز کو ڈیویڈنڈ نہیں دیا جائے گا۔

صدر اوباما نے کہا کہ ایک سو بیس ملین کا ایک اور فنڈ تیل کی صنعت سے وابستہ مزدوروں کے لیے بھی قائم کیا جائے گا۔

’ برٹش پیٹرولیئم کی لاپرواہی، معاوضہ ادا کرنا ہو گا‘

انہوں نے کہا کہ ان کو اطلاعات مل رہی ہیں کہ معاوضے کی ادائیگی میں سست روی برتی جا رہی ہے۔ اس فنڈ سے تمام ہرجانے جلد دے دیے جائیں گے۔

صدر اوباما نے مزید کہا ’اگر کسی شخص یا کاروبار کو اس تیل کے رسنے سے نقصان ہوا ہے تو وہ ہرجانے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔‘

اگرچہ برٹش پیٹرولیئم نے بیس بلین ڈالر فنڈ کی حامی بھری ہے تاہم اطلاعات کے مطابق یہ حتمی رقم نہیں ہے اور کمپنی کو اس فنڈ میں مزید رقم ڈالنے کا کہا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ بیس بلین ڈالر برٹش پیٹرولیئم کی ایک سال کا منافعے کے برابر ہے۔

برٹش پیٹرولیئم دو ہزار دس کے آخر تک اس فنڈ میں پانچ بلین ڈالر ڈالے گی اور اس کے بعد تین سال تک ہر سہ ماہی ایک بلین ڈالر ڈالے گی۔

وہائٹ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد بی پی کے چیئرمین نے کہا تیل کے رسنے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ایسا حادثہ ہے جو کہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

اس ملاقات سے قبل صبح کے وقت صدر براک اوباما نے خلیج میکسکیو میں تیل کے رساؤ کے معاملے پر ٹی وی خطاب کیا۔

برٹش پیٹرولیم کی جانب سے قائم کردہ فنڈ کے انتظامی امور ایک نامور وکیل کنیتھ فینبرگ کے پاس ہوں گے۔

اس سے پہلے کنیتھ نائن الیون کے متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے کے حوالے سے بنائے گئے ایک فنڈ کی سربراہی کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے امریکی حکومت کے بیل آوٹ پیکج کے حوالے سے بھی مختلف اداروں سے معاملات طے کرتے رہے ہیں۔

معاوضے کی ادائیگی کے لیے فنڈ قائم کرنے کی خبر سے امریکہ کے حصص بازار میں برٹش پیٹرولیم کے شئیرز کی قدر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

بیس اپریل کو تیل کے رساؤ کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب برٹش پیٹرولیم کی ایک رگ جسے سمندر کی تہہ میں سوراخ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، دھماکے سے ٹوٹ گئی تھی۔اس واقعے میں گیارہ کارکن ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں