شمالی آئرلینڈ میں ’خونی اتوار‘ کی رپورٹ

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون
Image caption برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ایوانِ نمائندگان میں سیویلی رپورٹ پیش کر رہے ہیں

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ ’بلڈّ ی سنڈے‘ کی ہلاکتیں غیر منصفانہ تھیں اور ان کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔

تیس مارچ انیس سو بہّتر کو آئر لینڈ کے دوسرے بڑے شہر لنڈنڈیری میں شہری حقوق کے لیے مارچ کرنے والوں پر برطانوی پیراٹروپر، نیم فوجیوں کی فائرنگ سے تیرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

فائرنگ کے نتیجے میں چودہ دیگر افراد زخمی بھی ہوئے تھے جن میں سے ایک بعد میں ہلاک ہو گیا۔ اس سلسلے میں کی جانے والی تحقیقات کی سیویلی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔

واقعے کے اڑتیس سال بعد سامنے آنے والی اس رپورٹ کو مکمل ہونے میں بارہ سال لگے، اس پر انیس کروڈ پچاس لاکھ پاؤنڈ کے اخراجات آئے اور یہ پچیس سو تحریری بیانات، نو سو پچیس زبانی بیانات، ایک سو اکیس صوتی اور ایک سو دس بصری ٹیپوں پر مشتمل ہے۔ یہ شہادتیں ایک سو ساٹھ جلدوں پر محیط ہیں۔

برطانوی وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ ’انتہائی معذرت‘ خواہ ہیں اور سیویلی رپورٹ سے جو حقائق سامنے آئے ہیں وہ انتہائی چونکا دینے والے ہیں۔

جب وزیراعظم رپورٹ کی تفصیلات بتا رہے تھے تو ڈیری کا گلڈہال سکوائر تالیوں سے گونج اٹھا۔

شمالی آئر لینڈ کے سب سے متنازع دن کے بارے میں جاری کی جانے والی اس رپورٹ میں فوج کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا ہے۔

قانونی امور کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار کلائیو کولمین اس رپورٹ کے نتیجے میں کسی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے امکانات کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ سوال کہ آیا کوئی مقدمہ چلایا جا سکتا ہے یا نہیں چلایا جا سکتا سیدھا نہیں ہے۔

Image caption آئر لیند کے شہر لنڈن ڈیری میں لوگ ہلاک ہونے والوں کی تصویریں اٹھائے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کسی پر بھی جرم ثابت کرنے کے لیے خاطر خواہ شہادتوں کی ضرورت ہو گی اور اڑتیس سال بعد یہ امتحان آسان نہیں ہو گا‘۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ’اتنا عرصہ گزرنے کے بعد اگر کسی پر دعویٰ دائر کیا جائے گا تو وہ ضرور یہ سمجھ لے گا کے اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا جانے والا۔ وہ یہ دلیل بھی دے سکتا ہے کہ مقدمہ چلانا ہی انصاف کے عمل کا غلط استعمال ہے‘۔

ایوانِ نمائندگان میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم کیمرون نے کہا کہ جو کچھ بھی بلڈّی سنڈے یا خونی اتوار کو ہوا، غلط تھا۔

انہوں نے کہا کہ پہلی گولی فوج نے چلائی اور گولی چلانے سے پہلے شہریوں کو متنبہ نہیں کیا گیا کہ فوجی گولی چلانے والے ہیں۔

فوجیوں نے گولی کسی پیٹرول بم حملے یا پتھراؤ کے جواب میں نہیں چلائی۔

جو لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے وہ یا تو وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھی یا ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی مدد کی کوشش کر رہے تھے۔

ایک بھی ہلاکت ایسے نہیں ہے جسے خطرہ گردانا جا سکتا ہو اور جس سے گولی چلانے کا جواز میسر آتا ہو۔

اکثر فوجیوں نے حقائق کے بارے میں دروغ گوئی سے کام لیا۔

خونی اتوار کو پیش آ سکنے والے ممکنہ واقعات کو روکنے کے لیے پیش بندی نہیں کی گئی تھی۔

شمالی آئرلینڈ کے نائب وزیراعظم اوّل مسٹر میکگوئنس موقع پر موجود تھے اور غالباً سب مشین گن سے مسلح تھے لیکن انہوں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے فوجیوں کو فائرنگ کا جواز ملتا ہو۔

مسٹر میکگوئنس سے جب رپورٹ کے حوالے سے پوچھا گیا کہ رپورٹ میں آپ کے مسلح ہونے کی بات کی گئی ہے، کیا آپ مسلح تھے؟ تو ان کا جواب تھا کہ ’نہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’رپورٹ میں اس شہر کے ہر باسی کو بری الذمہ قرار دیا جا چکا ہے‘۔

رپورٹ کے حوالے سے بری فوج کے سربراہ جنرل سر ڈیوڈ رچرڈ نے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم کی جانب سے معذرت کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’رپورٹ کے بعد اس بات میں کوئی شک ہی نہیں رہتا کہ اس اندوھناک دن افسروں اور جوانوں سے سنگین غلطی ہوئی جس کے نتیجے میں ایسے تیرہ شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں جنہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا جس سے فائرنگ کرنے کا جواز ملتا ہو‘۔