اسرائیل: غزہ محاصرہ نرم کرنے کا اعلان

اسرائیل روزرہ کی ضروریات کی اشیا بھی اسرائیل نہیں جانے دیتا ہے۔ اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کا بری محاصرہ نرم کر رہا ہےاور شہری ضروریات کی اشیاء فلسطینی علاقوں میں جانے دے گا۔

اسرائیل نے یہ اعلان محاصرے میں نرمی کے لیے عالمی دباؤ کے نتیجے میں کیا ہے۔ حماس نے اسرائیل کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔ حماس کے سینیئر رہنما موسیٰ ابو مرزوک نے کہا کہ اسرائیل کا یہ فیصلہ عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے جس کی طرف سے اسے سخت تنقید کا سامنا ہے۔

غزہ میں اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی کے سربراہ جان گنگ نے امید ظاہر کی کہ اسرائیل کا فیصلہ غزہ میں غیر قانونی اور غیر انسانی صورتحال کے تدارک میں مدد کرے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے اثرات کا اس پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

گزشتہ ماہ غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے بحری جہاز فلوٹیلا پر اسرائیلی کمانڈوز کے حملے کے خلاف شدید عالمی ردِ عمل پیدا ہوا اور بڑے پیمانے پر دنیا بھر میں اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کی گئی۔

سنہ دو ہزار سات میں جب حماس نے غزہ کا کنٹرول سنبھالا تو اسرائیل اور مصر نے غزہ کی ناکہ بندی سخت کر دی تھی۔

کچھ ہی دیر قبل جاری کیے جانے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل غزہ کی بری ناکہ بندی نرم کر دے گا۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے گزشتہ تین سال سے مسلسل غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

عرب دنیا کے سینئر ترین سفارتکار امر موسٰی کا کہنا ہے کہ غزہ کا محاصرہ ہر صورت میں ختم ہونا چاہیے۔

چند روز قبل عرب لیگ کے سربراہ امر بن موسیٰ فلسطین کا دورہ کیا اور کہا کہ ’یہ محاصرہ جس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم سب یہاں ہیں، ہر صورت میں ختم ہونا چاہیے اور اس معاملے پر عرب لیگ کا موقف واضح ہے‘۔

اسی بارے میں