کشمیر، میر واعظ عمرفاروق گرفتار

میرواعظ نے حکومت ہند کی طرف سے کنٹرول لائن پر دراندازی کے دعوؤں کو جھوٹ کا پلندہ' قرار دیا بھارتی زیرانتظام کشمیر میں جمعرات کو مقامی پولیس نے معروف علیحدگی پسند رہنما میرواعظ عمرفاروق کو احتجاجی مارچ کے دوران ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا۔

میرواعظ حالیہ مہینوں میں کم سن بچوں کی پولیس کارروائیوں کے دوران ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مارچ کررہے تھے۔

میرواعظ کی قیادت میں درجنوں حریت کارکنوں نے جب سرینگر میں واقع اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے ہیڈکوارٹر کی طرف پیش قدمی کی تو پولیس نے جلوس کو گھیر لیا۔ اس موقع پر میرواعظ اور ان کے ساتھیوں نے مزاحمت کرنا چاہی تاہم انہیں گاڑیوں میں دھکیل کر تھانے پہنچایا گیا جہاں سے انہیں شام کو رہا کیا گیا۔

میرواعظ نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کو بتایا کہ ’ہم نے ایک یادداشت تحریر کی تھی جو ہم اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو دینا چاہتے تھے۔ یہاں پانچ لاکھ افواج اور دو لاکھ نیم فوجی دستے اور ڈیڑھ لاکھ پولیس والے کشمیریوں کی نسل کشی کررہے ہیں اور عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ اس مارچ کے ذریعے وہ عالمی اداروں کے ساتھ ساتھ بھارت کی سِول سوسائٹی کے ضمیر کو جگانا چاہتے تھے۔

احتجاجی مارچ سے قبل حریت کے صدر دفتر میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے حکومت ہند کی طرف سے کنٹرول لائن پر دراندازی کے دعوؤں کو جھوٹ کا پلندہ' قرار دیا۔ میرواعظ نے بتایا: 'فوج نے کہا ہے کہ پچھلے اڑھائی ماہ کے دوران ہوئی جھڑپوں میں دو سو پچاس مسلح افراد کو مارا گیا، لیکن حیرت یہ ہے کہ صرف تیس افراد کی شناخت ظاہر کی گئی۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ ’کشمیر میں جو لوگ لاپتہ ہیں انہیں ’فرضی جھڑپوں‘ میں قتل کیا جاتا ہے۔‘

میرواعظ کے ہمراہ سینیئر حریت رہنما پروفیسر عبدالغنی بھٹ اور درجنوں دیگر کارکنوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔ پچھلے سات سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ میرواعظ گروپ نے بغیر پیشگی اعلان کے احتجاجی ریلی منعقد کی۔

واضح رہے گیارہ جون کو سرینگر میں مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی میں ایک کم سن راہگیر طفیل متو کے سر میں آنسو گیس کا شیل لگا اور اُن کی موت ہوگئی ۔ شہر میں چار روز تک کرفیو رہا جبکہ سوموار کو پورے کشمیر میں ہڑتال کی گئی۔ جنوری سے اب تک پولیس کارروائیوں میں طفیل سمیت چار بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں