مسلم ممالک میں امریکہ، اوباما کی پسندیدگی میں کمی

امریکی ریسرچ سینٹر کے تازہ ترین سروے میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما کی شہرت میں دنیا بھر میں کمی واقع ہوئی ہے۔

امریکی ریسرچ سینٹر پیو کے مطابق مسلم دنیا میں صدر اوباما اور امریکہ کی پسندیدگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔

سروے کے مطابق ترکی، مصر اور لبنان میں صدر براک اوباما کی پسندیدگی میں پچھلے سال کی بہ نسبت دس دس فیصد کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ اردن اور نائجیریا میں چار چار فیصد جبکہ انڈونیشیا اور پاکستان میں پانچ پانچ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

سروے کے مطابق مسلم دنیا میں امریکہ کی پسندیدگی میں بھی کمی واقع ہوئی ہے سوائے ترکی کے جہاں پسندیدگی میں سنہ دو ہزار نو کی بہ نسبت تین فیصد اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ کی ناپسندیدگی میں سب سے زیادہ اضافہ مصر میں ہوا ہے جہاں امریکہ کی ناپسندیدگی میں دس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اردن اور انڈونیشیا میں میں چار چار فیصد، لبنان میں تین فیصد، نائجیریا میں دو اور پاکستان میں صرف ایک فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سروے کے مطابق عالمی معاملات کے حثالے سے بھی صدر اوباما کی ریٹنگ دنیا بھر میں گری ہے۔

امریکی عوام کو بھی عالمی معاملات میں صدر اوباما پر اعتماد نہیں ہے اور ان کی ریٹنگ دو ہزار نو کے مقابلے میں نو فیصد گری ہے۔ عالمی معاملات کے حوالے سے سب سے زیادہ اعتماد کا فقدان ارجنٹینا اور میکسیکو میں پایا جاتا ہے جہاں ان کی ریٹنگ بارہ فیصد گری ہے۔

اس کے علاوہ امریکہ کے اتحادی ممالک میں بھی ان کی ریٹنگ گری ہے۔ برطانیہ میں دو فیصد کمی آئی ہے، فرانس میں چار فیصد، جرمنی اور سپین میں تین تین فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

عالمی معاملات کے حوالے سے بھی مسلم دنیا میں صدر اوباما کچھ اچھا نہ کر سکے۔ پاکستان میں ان عالمی معاملات کے حوالے سے صدر اوباما کی ریٹنگ میں پانچ فیصد کمی آئی ہے جبکہ اردن میں پانچ، لبنان میں تین اور انڈونیشیا میں چار فیصد کمی آئی ہے۔

تاہم جہاں امریکی صدر کی ریٹنگ گری ہے وہاں مسلم ممالک کے علاوہ امریکہ کی پسندیدگی میں اضافہ پایا جاتا ہے۔

سروے کے مطابق مسلم دنیا میں خودکش حملوں کے جائز قرار دیے جانے میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس حوالے سے دو ہزار نو کی بہ نسبت سب زیادہ اضافہ اردن میں دیکھنے کو ملا جہاں آٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں سنہ دو ہزار دو میں تینتیس فیصد افراد نے خودکش حملوں کو جائز قرار دیا تھا تاہم دو ہزار دس میں میں یہ شرح گر کر آٹھ فیصد رہ گئی ہے۔ لیکن دو ہزار نو کے مقابلے میں خودکش حملوں کو جائز قرار دینے میں تین فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس جیسے ممالک میں زیادہ تعداد ایران پر پابندیوں کے حق میں ہے جبکہ فوجی کارروائی کے حق میں لوگ کم ہیں۔

دوسری جانب مسلم ممالک میں زیادہ تر افراد بھی ایران پر پابندیوں کے حق میں سوائے پاکستان کے۔ پاکستان میں انیس فیصد افراد پابندیوں کے حق میں ہیں جبکہ اکیس فیصد افراد ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حق میں ہیں۔

اسی بارے میں