افغانستان: بم دھماکوں میں چورانوے فیصد اضافہ

افغانستان دھماکہ فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اس سال اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یو این کی سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ سڑک کنارے نصب بم دھماکے پچھلے سال کی نسبت چورانوے فیصد بڑھے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان کے جنوبی علاقے صوبہ ہلمند میں شدت پسندوں کی جانب سے ہونے والے حملوں میں شدت کی وجہ نیٹو کی سربراہی میں جاری کاروائی بتائی گئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے مرتب کی جانے والی اِس رپورٹ اور پینٹاگان کی اُس رپورٹ میں تضاد پایا جاتا ہے جس میں دعوٰی کیا گیا تھا کہ افغانستان میں نیٹو کو کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے پیش کی جانےوالی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے حالات میں بہتری نہیں آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں گزشتہ برس کی نسبت رواں برس کے دوران سڑک کنارے نصب بم دھماکے کے واقعات پچھلے سال کی نسبت چورانوے فیصد بڑھے ہیں جب کہ افغان حکام کی ہلاکتوں میں بھی پینتالیس فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک میں ہر ہفتے تین خود کش بم دھماکے ہوئے جس میں زیادہ تر ملک کےجنوب میں واقع علاقے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

رپورٹ میں خود کش بم دھماکوں کی تعداد میں اضافے کا تعلق القاعدہ اور طالبان کے مختلف دھڑوں سے بتایا گیا ہے۔

رپورٹ میں افغان حکومت کی جانب سے کیے گئے ان اقدامات کا بھی کر کیا گیا ہے جن میں شدت پسندوں کو اس بات کی ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ جنگ کے میدان کو چھوڑ کر حکومت کا ساتھ دیں۔

رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ افغان حکام کے ساتھ مل کر ستمبر میں ملک میں پارلیمانی انتخابات منعقد کروانے پر بھی غور کر رہی ہے۔

. نیٹو کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل جوزف نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں پائے جانے والی منفی اندازوں کے برعکس بین الاقوامی فوج افغانستان میں مزاحمت کاروں کے خلاف کامیابی حاصل کر رہی ہے۔‘

اُن کے مطابق افغانستان میں سخت لڑائی جاری رہے گی لیکن مجوعی صورتحال ہمارے حق میں ہے۔

جنرل جوزف کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیٹو اور افغانستان کی مشترکہ فوج ملک میں ہونے والے حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف تیزی سے کاروائی کر رہی ہے۔

اُن کے مطابق شدت پسندوں کے کمانڈروں کو گرفتار کیا جا رہا ہے جس سے ملک میں خودکش دھماکوں میں نمایاں کمی آئے گی۔

.جنرل جوزف کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جاری آپریشن میں سویلین افراد کی ہلاکتوں میں گزشتہ بارہ ہفتوں کے دوران چوالیس فی صد کمی آئی ہے۔

وزاتِ خارجہ کے مطابق افغانستان کے صوبے ہلمند میں جمعہ کو دو سویلین اُس وقت ہلاک ہو گئے جب اُن کی گاڑی سٹرک کنارے نصب بم سے ٹکرا گئی ۔

پکتیہ کے ڈپٹی پولیس چیف غلام دستگیر کے مطابق جمعہ کو پکتیہ میں ایک ایسے واقعہ میں تین افغان سپاہی ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ افغانستان کے جنوبی علاقوں میں نیٹو افواج کے مجوزہ فوجی آپریشن سے قبل پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور قندھار میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایک شادی کی تقریب میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم انتالیس افراد ہلاک اور ستر کے قریب زخمی ہوئے تھے۔

افغانستان میں امریکہ اور نیٹو فورسز کی ہلاکتوں میں رواں ماہ کے دوران اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اب تک مرنے والے سپاہیوں کی تعداد ترپن تک پہنچ گئی ہے جن میں چونتیس امریکی شامل ہیں۔

دوسری جانب امریکہ کے وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ افغانستان میں مزاحمت کاروں کے خلاف غیر ملکی فوجوں کو دوبارہ برتری حاصل ہو رہی ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع نے صحافیوں کو بتایا کہ نیٹو کو کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔ ’دھیرے دھیرے لیکن مستقل اور دیرپا کامیابی‘۔

اسی بارے میں