عبدالمالک ریگی کو پھانسی دے دی گئی

عبدالمالک ریگی
Image caption عبدالمالک ریگی کو رواں برس تیئیس فروری کو ایرانی حکام نے گرفتار کیا تھا

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سنّی شدت پسند تنظیم جند اللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔

عبدالمالک ریگی پر ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں بم دھماکے کرنے، ایرانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے اور برطانیہ اور امریکہ کے ایجنٹ ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

عبدالمالک ریگی کون تھے

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق عبدالمالک ریگی کو سزائے موت دینے کا فیصلہ تہران انقلابی ٹربیونل نے کیا اور اتوار کی صبح ایون کی جیل میں سزا پر عملدرآمد کے وقت اس کی کارروائیوں کا نشانہ بننے والے افراد کے اہلِ خانہ بھی موجود تھے۔

عدالت کی جانب سے جاری ہونے فیصلے کے مطابق’ ریگی نے اغوا کی پندرہ مسلح کارروائیوں، تین قتل کرنے کا اعتراف، درجنوں شہریوں، پولیس اور فوجی اہلکاروں، کو بم دھماکوں اور مسلح کارروائیوں میں قتل کرنے کا حکم دیا۔‘

عدالتی فیصے کے مطابق ریگی کو ایک دہشت گرد گروپ جند اللہ جو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف لڑائی کر رہا تھا کو قائم کرنے میں قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی حکام نے چند ہفتے قبل عبدالمالک ریگی کے بھائی عبدالحامد ریگی کو بھی دہشتگردی کے الزامات کے تحت سزائے موت دے دی تھی۔

عبدالمالک ریگی کو رواں برس تیئیس فروری کو ایرانی حکام نے اپنی فضائی حدود سے اس وقت گرفتار کیا تھا جب ایرانی حکومت کے مطابق وہ بذریعہ طیارہ کرغزستان جا رہے تھے۔

ان کی گرفتاری کے بعد ایرانی ٹی وی پر جاری کیے گئے بیان میں ریگی نے کہا تھا کہ جب انہیں گرفتار کیا گیا اس وقت وہ کرغزستان میں مناس فوجی اڈے پر ’ایک اہم شخصیت‘ سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے۔ اس بیان میں ریگی نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ نے ان کے گروہ کو فوجی سازو سامان اور افغانستان میں ایرانی سرحد کے نزدیک ایک اڈہ بنا کر دینے کا وعدہ کیا ہے۔

تاہم امریکی حکام عبدالمالک ریگی کے ساتھ کسی تعلق یا رابطے کی تردید کرتے رہے ہیں۔

جندو اللہ کا کہنا ہے کہ وہ سیستان بلوچستان میں بڑی کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔ ان کارروائیوں میں پاکستان کی سرحد کے نزیدک ایک خودکش حملہ بھی شامل ہے جس میں پاسدارنِ انقلاب کے چھ اعلیٰ کمانڈرز سمیت بیالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ ایک امام بارہ گاہ میں ہونے والے بم دھماکے میں پچیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سنی شدت پسند تنظیم جند اللہ سنہ دو ہزار دو میں قائم کی گئی تھی اور اس کا مقصد ایران کے جنوب مشرقی علاقے میں بلوچی اقلیت کے حقوق کی جنگ لڑنا بیان کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں