فیصل شہزاد: تمام الزامات کا اعتراف

فیصل شہزاد
Image caption فیصل شہزاد کو پیر کی دو پہر کو عدالت میں پیش کیا گیا

نیو یارک کے ایک پُر ہجوم مقام ٹائمز سکوائر پر نا کام بم حملے کے مجرم فیصل شہزاد نے ان پر عائد تمام الزامات کا اعتراف کر لیا ہے۔ ان پر دس الزامات ہیں جن میں دہشت گردی اور وسیع پیمانے کے ہتھیار کے استعمال کی کوشش شامل ہیں۔

فیصل شہزاد کو پیر کے روز مین ہیٹن کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہوں نے تمام الزامات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں ’مزید سو مرتبہ تسلیم کرتے ہیں۔‘ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ وہ امریکہ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر امریکہ افغانستان اور عراق سے نہیں نکلتا اور وہ مسلمان ممالک میں اپنی مداخلت جاری رکھتا ہے تو ’ہم اس پر حملہ کریں گے۔‘

یکم مئی کو ٹائمزسکوائر کے قریب ایک گاڑی میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا ہوا ملا تھا۔ فیصل شہزاد نے یہ گاڑی کچھ روز پہلے خریدی تھی اور انہیں اس ناکام حملے کے دو دن بعد نیو یارک کے جے ایف کے ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا، جہاں وہ امریکہ سے روانہ ہونے والی ایک پرواز پر بیٹھ چکے تھے۔

تیس سالہ پاکستانی نژاد فیصل شہزاد امریکی شہری بھی ہیں۔ ان کے خلاف ٹائمز سکوائر میں ناکام بم کی تنصیب، وسیع تباہی پھیلانے کے منصوبے اور دہشتگردی کی پاکستان میں تربیت حاصل کرنے جیسے الزمات کے مقدمے کی سماعت مین ہٹین کی وفاقی عدالت میں پیر کی دوپہر ابھی شروع ہی ہوئی تھی کہ فیصل شہزاد کے وکیل دفاع ، استغاثہ کے وکیل اور جج کے درمیاں مشاورت شروع ہوگئی۔

سہ پہر چار بجے کھچا کھچ بھرے کمرہ عدالت میں فیصل شہزاد کو جج مِریم گولڈ مین سیڈر بوم کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس وقت ان کے ہاتھ ہتھکڑی سے پشت پر بندھے ہوئے تھے۔

کچھ دیر بعد ملزم فیصل شہزاد کے ہاتھوں پر سے ہتھکڑي کھولی تو انہوں نے اپنے وکیل اور استغاثہ کے وکیل سے بات چیت کی۔ اس موقع پر کمرۂ عدالت میں مقدمے کی کارروائی دیکھنے والوں میں کھسر پھسر شروع ہوگئی۔

جج نے امریکی حکومت کے طرف سے عائد کیے گۓ الزامات پر مبنی فرد جرم پڑھنے سے پہلے فیصل شہزاد سے پوچھا گیا کہ انکے خلاف وسیع تباہی پھلانے کے منصوبے کا الزا م ہے کیا وہ یہ الزام قبول کرتے ہیں؟ تو ملزم فیصل شہزاد کا جواب دیا کہ وہ اس الزام کو سو مرتبہ قبول کرتے ہیں۔

Image caption فیصل شہزاد پاکستانی فضائیہ کے ایک ریٹائرڈ اعلی افسر کے بیٹے ہیں

اس پر جج نے فیصل شہزاد سے کہا کہ کیا وہ یہ سمجھیں کہ وہ اپنے خلاف عائد الزامات قبول کرتے ہیں تو ملزم کا جواب تھا ’جی ہاں‘۔

فیصل شہزاد کے اعترافِ جرم کی صورت میں ان کو عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے تاہم عدالت ان کی سزا کے تعین کے لیے باقاعدہ سماعت کریگی جو اب اکتوبر میں ہوگی۔

اسی بارے میں