امریکی فوج کی افغان طالبان کو رشوت

فائل فوٹو، افغان طالبان

امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی فوج افغانستان کی سکیورٹی کمپنیوں کو لاکھوں ڈالر فراہم کر رہی ہے جو یہ رقم افغان جنگجو سرداروں کو رشوت کے طور پر دیتی ہیں۔

تفتیش کاروں کے مطابق امریکی فوج اپنے سپلائی ٹرکوں کو غیر محفوظ علاقوں سے باحفاظت گزارنے کے لیے یہ رقم نجی سکیورٹی کمپنیوں کو فراہم کرتی ہے۔

امریکی فوج کے دستاویزات سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق اگر رقم فراہم نہیں کی جاتی تو سپلائی کے ٹرکوں کے قافلے پر حملے کیے جاتے ہیں۔

دستاویز کے مطابق سپلائی کے ٹرکوں میں خوراک، پانی، تیل اور اسلحہ لدا ہوا ہوتا ہے، ہو سکتا ہے ہر ہفتے سکیورٹی کمپنیوں کو چالیس لاکھ ڈالر تک ادا کیے جاتے ہوں۔

گانگریس کی اس رپورٹ کو چھ ماہ کی تحقیقات کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔

امریکی کانگریس کی ایک ذیلی کمیٹی جس نے یہ تفتیش کی ہے جمعرات کو تحقیقات میں سامنے آنے والے شواہد کی روشنی میں محمکہ دفاع کے اعلیٰ افسران سے پوچھ گچھ کرے گی۔

اس تفتیش کے مطابق یہ رشوت طالبان کے علاوہ تقریباً تمام گورنرز، پولیس کے سربراہان اور مقامی فوجی کمانڈرز کو دی جاتی ہے جن کی حدود سے امریکی سپلائی کے قافلے گزرتے ہیں۔

ان سکیورٹی کمپنیوں میں سے ایک کے مبینہ مالک افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے دو کزن ہیں۔

پیر کو جاری ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نجی ٹھیکیداروں کو استعمال کرنے کے حوالے سے سکیورٹی معاہدوں میں قوانین اور امریکی محکمہ دفاع کے قواعد و ضوابط کی خلاف وزری کی گئی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جنگجو سردار اگرچہ سکیورٹی محافظ فراہم کرتے ہیں اور سکیورٹی کے حوالے سے معاونت کرتے ہیں تاہم اس ضمن میں نجی ٹھیکیداروں کے پاس ان کو استعمال کرنے کے علاوہ متبادل نہیں ہوتا۔‘

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں اس وقت سکیورٹی مہیا کرنے والی سب سے بڑی کمپنی وطن رسک مینجمنٹ ہے جو ان کمپنیوں میں شامل ہے جس سے ان دنوں تفتیش کی جا رہی ہے۔

فوج کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے مبینہ طور پر محفوظ راستہ فراہم کرنے یا محفوظ راستے کے لیے قیمت طے کرنے کے لیے مذاکرات کیے۔ کمپنی نے اس کے بعد ان ٹرک کمپنیوں کو وارننگ جاری کی جنھوں نے رقم ادا کرنے میں تاخیر یا انکار کر دیا تھا۔

امریکی فوج میں جرائم کی تحقیقاتی کمانڈ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ اس ضمن میں انکوائری کی جا رہی ہے۔

یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب افغانستان میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم نہ صرف دشمنوں کو ادا کی جا رہی ہے بلکہ افغانستان میں استحکام کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔

اسی بارے میں