کرغزستان:نسلی فساد کے بعد ریفرنڈم

کرغزستان میں رائے شماری

کرغزستان میں ان خدشات کے ساتھ نئے آئین پر عوامی رائے لی جا رہی ہے کہ اس سے نسلی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

جون کے مہینے میں کرغزستان کے جنوبی حصے میں کرغز اور ازبکوں کے درمیان فسادات میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

مجوزہ آئین میں پارلیمان کے اختیارات بڑھ جائیں گے اور اس سے ستمبر میں عام انتخابات کے لیے بھی راہ ہموار ہو جائے گی۔

نئے آئین کے لیے رائے شماری کا اعلان ملک کی موجودہ عبوری حکومت نے اپریل میں صدر کرمانبیک باکییو کی برطرفی کے بعد کیا تھا۔

کرغز دارالحکومت بشکیک سے بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ ملک کے حالات اس قسم کی رائے شماری کے لیے قطعاً سود مند نہیں ہیں۔

محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق گزشتہ ماہ ہونے والے نسلی فسادات میں دو سو پچھتر لوگ ہلاک ہو گئے تھے، لیکن کچھ دیکر حکام کے مطابق یہ تعداد دو ہزار ہے۔

ان فسادات میں ہزاروں گھر اور کاروبار تباہ ہو گئے تھے اور تقریباً چار لاکھ لوگ بے گھر بھی ہوئے تھے جن میں زیادہ تر ازبک ہیں۔

عبوری حکومت کی سربراہ نے کہا کہ نیا آئین سے ان کی حکومت کو قانونی حیثیت مل جائے گی۔ انہوں نے اوش میں، جہاں فسادات شروع ہوئے تھے، اپنا ووٹ ڈالتے ہوئے کہا کہ ’ہم بحیثیت قوم اپنے زخموں کو بھرنا چاہتے ہیں۔‘

کرغزستان کے دوسرے بڑے شہر میں رائے شماری کے لیے کرفیو ختم کیا گیا تھا۔ روس، امریکہ اور اقوام متحدہ رائے شماری کے حق میں ہیں۔ آئین کی منظوری کے بعد کرغزستان پارلیمانی جمہوریت بن جائے گا۔

اسی بارے میں