’کینیڈا سے جوہری تعاون کا سمجھوتہ‘

فائل فوٹو
Image caption بھارت کا اہم جوہری پلانٹ بھابھا

بھارت اور کینیڈا نے سویلین جوہری توانائی کی ترقی اور فروغ میں تعاون کے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں۔

پیر کو کیے گئے اس سمجھوتے کے بعد کینیڈا کی جوہری کمپنیوں کے لیے بھارت کی منڈی کھل جائے گی۔

اس سمجھوتے پر دستخط بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے کینیڈا میں جی ٹوئنٹی کے اجلاس میں شرکت کے دوران کیے گئے ہیں۔

بھارت کے وزیراعظم جاپانی وزیراعظم کے ساتھ بھی جوہری توانائی پر بات چیت کریں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جوہری توانائی کے سمجھوتے کے حوالے سے جاپان میں بات چیت کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس سمجھوتے کے تحت جاپان کی کمپنیاں بھارت کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کر سکیں گی۔

کینیڈا کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے میں جوہری فضلے کو ٹھکانے لگانے اور جوہری تابکاری کے حوالے سے حفاظتی اقدامات بھی شامل ہیں۔

سمجھوتے کی تقریب کے بعد بھارتی وزیراعظم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ سمجھوتے کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی نئی تاریخ رقم ہوئی ہے جو ہر ایک شعبے کے لیے بہت اہم ہے۔‘

اس موقع پر کینیڈا کے وزیراعظم سٹیفن ہارپر نے کہا کہ بھارت کے ساتھ سمجھوتہ کینیڈا کے لیے اہم پیش رفت ہے کیونکہ بھارت کی جانب سے انیس سو چوہتر میں جوہری دھماکے کے بعد جوہری تعاون کا سلسلہ رک گیا تھا۔

کینیڈا نے بھارت سے جوہری شعبے میں تعاون پر اس وقت پابندی عائد کر دی تھی جب بھارت نے کینیڈا کے تعاون سے لگائے گئے جوہری ریکٹر سے حاصل کردہ پلوٹونیم کو سمائلنگ بدھا کے نام سے انیس سو چوہتر میں کیے گئے ایٹمی تجربے میں استعمال کیا تھا۔

ان تجربات کے بعد پوری دنیا نے بھارت سے ایٹمی شعبے میں تعاون پر پابندی عائد کر دی تھی۔ لیکن یہ پابندی دو ہزار آٹھ میں امریکہ سے جوہری شعبے میں تعاون کےایک معاہدے پر دستخط کے بعد اٹھا لی گئی تھیں۔

اسی بارے میں