امریکہ: فیض گھر کے لیے شامِ فیض

فیض احمد فیض
Image caption ’فیض گھر‘ کی لائبریری کے لیے امریکہ میں ساٹھ ہزار ڈالر جمع کرنے کی مہم

لاہور میں فیض احمد فیض کی یاد میں قائم کیے جانے والے ’فیض گھر‘ کی مجوزہ لائیریری کے لیے امریکہ میں چندہ یا فنڈ ریزنگ مہم چلائي جا رہی ہے جس کے لیے امریکہ کے کئي شہروں میں ’فیض کی شام‘ کے عنوان سے پروگرام منعقد ہو رہے ہیں۔

اتوار کی صبح ہارورڈ یونیورسٹی سے متصل میسی چوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی ) میں ’شام فیض‘ کے عنوان سے ایک پروگرام ہوا ہے جس کی صدارت فیض احمد فیض کی بیٹی منیزہ ہاشمی نے کی۔

یہ حالیہ دنوں میں فیض گھر کے لیے چندہ مہم کے سسلے میں ہونے والا دوسرا جلسہ تھا جس کے لیے مینزہ ہاشمی، فیض کے کچھ دوستوں اور مداحوں کے ساتھ امریکہ کے دورے پر ہیں۔

تقریب میں فیض کی شاگرد، دوست، ماہر تعلیم اور نیشنل کونسل برائے حقوق نسواں کی سابق سربراہ سیدہ عارفہ نے اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے فیض کی شاعری اور شخصیت پر روشنی ڈالی۔

سیدہ عارفہ نے کہا کہ فیض ماضی حال اور مستقبل کے شاعر ہیں۔ فیض کی شاعری کی عظمت یہ ہے کہ وہ تمام طبقات اور مکاتیب فکر میں یکساں مقبول ہے۔ فیض کو کوئی ترقی پسند کہتا ہے تو کوئی صوفی لیکن جب انہوں نے فیض سے پوچھا تھا کہ وہ کیا ہیں توانہوں نے کہا: ’ہم جو ہیں سوہیں‘۔

سیدہ عارفہ نوجوان نسل کو فیض کی یہ بات بتائي کہ وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو ماضی سے رشتہ جوڑ کر متسقبل پر نظر رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیض اپنے دشمنوں سے بھی محبوب کی طرح گفتگو کرتے تھے جب کہ ہمیں اپنے دوستوں سے بھی گفتگو کرنا نہیں آتی۔

اس موقع پر منیزہ ہاشمی نے اپنے خاندان کی یادوں، راولپنڈی سازش کیس اور فیض کی اسیری و رہائی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیض بنیادی طور آزادیِ تقریر و تحریر کے علم بردار شاعر ہیں۔

Image caption فیض احمد فیض، ضیا محی الدین اور آصف جیلانی بی بی سی اردو کے ایک پروگرام میں

امریکہ میں رہائش پذیر فیض احمد فیض کی بھتیجی اور اپنے دور کی معروف براڈ کاسٹر فریدہ احمد نے فیض کی انگریزی میں ترجمہ کی ہوئی نظم پیش کی۔ بوسٹن کی کیمونٹی کی مختلف شخصیات نے فیض کی نظمیں پڑہ کر سنائيں۔ جب کہ فیض کا لکھا مشہور مرثیہ بھی پڑہ کر سنایا گیا۔

فیض کے ایک مداح نے شرکا پر انکشاف کیا کہ انیس سو اناسی میں بوسٹن میں اپنے قیام کے دوران فیض احمد فیض نے اپنی معرکتہ آرا نظم ’ہم دیکھیں گے‘ تب ایران میں شاہ کے خلاف اٹھنے والی عوامی لہر کے پس منظر میں سنائی تھی۔

پروگرام میں فیض فاؤنڈیشن کی طرف سے فیض گھر اور کلام فیض بہ زبان فیض پر مبنی ایک مختصر فلم بھی دکھائي گئی۔

اب امریکی ریاست ارکنساس میں غیر سرکاری تنظیم کے طور رجسٹرڈ ہے فیض فاؤنڈیشن فیض گھر میں جامع آڈيو، ویڈیو اور کتابی لائبریری کے لیے فوری طور درکار ساٹھ ہزار امریکی ڈالر جمع کر رہی ہے اور اس سلسلے میں امریکی شہر سینٹ لوئیس میں ہونے والی تقریب میں بیس ہزار ڈالر جمع کیے جا چکے ہیں۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے منیز ہاشمی نے کہا کہ امریکی دورے کا مقصد فیض احمد فیض کو دنیا بھر میں انسانیت کے مشترکہ ورثے کے طور پر منوانا ہے کیونکہ فیض فقط ان کے والد یا خاندان کی ’اونر شپ‘ تک محدود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نسل کے چلے جانے سے پہلے وہ یہ ورثہ پاکستان اور دنیا بھر کی نئی نسلوں کو منتقل کرنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے بتایا اس سےسلسلے کا آئندہ پروگرام اگلے ماہ سان فرانسسکو میں ہو گا۔