روسی ’جاسوس‘ ضمانت کے بعد غائب

فائل فوٹو
Image caption کرسٹوفر رابرٹ میٹسوس کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ بڈھاپیسٹ جانے والی ایک پرواز میں سوار ہونے والے تھے۔

قبرص میں پولیس کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف روسی جاسوس قرار دیئے جانے والے گیارہ افراد میں سے ایک ضمانت پر رہا ہونے کے بعد لاپتہ ہو گئے ہیں۔

اس شخص کو انٹرپول وارنٹ پر قبرص سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان کا تعلق کینیڈا سے بتایا جاتا ہے۔

کرسٹوفر رابرٹ میٹسوس نامی اس شخص کو بدھ کے روز اپنی ضمانت سے سلسلے میں ضروری کارروائی کے لیے تھانے میں پیش ہوتا تھا لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔

اطلاعات کے مطابق انہیں اس شرط پر ضمانت پر رہا کیا گیا تھا کہ وہ اپنی سفری دستاویزات جمع کرا دیں گے اور انتیس جولائی تک ہر روز تھانے میں حاضری دیں گے، جب ان کو امریکہ کے حوالے کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ سماعت کے لیے عدالت سے سامنے پیش کیا جانا ہے۔

کرسٹوفر رابرٹ میٹسوس کو منگل کے روز لارناکا کے ہوائی اڈے سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ بڈھاپیسٹ جانے والی ایک پرواز میں سوار ہونے والے تھے۔

مسٹر کرسٹوفر رابرٹ میٹسوس ان الزامات کے تحت امریکہ سے باہر گرفتار ہونے والے واحد شخص تھے۔ وہ سترہ جون کو قبرص پہنچے تھے۔

پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز پولیس انہیں چیک کرنے کے لیے اس ہوٹل میں بھی گئی جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے لیکن ان کا کچھ پتا نہ چل سکا۔

عدالت میں ان کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ بدھ کے روز ان کا اپنے موکل سے کسی قسم کے رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔

اس سے پہلے امریکہ میں حکام کا کہنا تھا کہ دس افراد کو مبینہ طور پر روس کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ان میں سے پانچ کو پیر کو نیویارک میں مین ہیٹن کی فیڈرل کورٹ میں پیش کیا گیا۔

عدالت میں پیش کی جانے والی دستاویز کے مطابق مبینہ طور پر ان جاسوسوں کو جوہری ہتھیاروں، اسلحے کے کنڑول کی پوزیشن، ایران، وائٹ ہاوس میں افواہیں، سی آئی اے اور سیاسی جماعتوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا کہا جاتا تھا۔

امریکہ کی وزارتِ انصاف کا کہنا ہے ان مبینہ جاسوسوں پر غیر ملکی حکومت کے لیے غیر قانونی طور پرایجنٹ کا کام کرنے کی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ اس جرم کے تحت انھیں زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی قید ہو سکتی ہے۔

وزارتِ انصاف کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق کئی سالوں کی تحقیقات کے بعد مشتبہ جاسوس گرفتار کیے گئے ہیں۔

ان مبینہ جاسوسوں کو نیو جرسی، مین ہیٹن اور یونکیرز کے علاقوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔

تین دیگر مبینہ جاسوسوں کو ورجینیا کی فیڈرل کورٹ میں پیش کیا گیا۔ یہ آرلنگٹن سے گرفتار ہوئے تھے۔ دو مبینہ جاسوس بوسٹن سے گرفتار ہوئے تھے اور انھیں بوسٹن کی فیڈرل کورٹ میں پیش کیا گیا۔

حکام کے مطابق اتوار کو امریکی سرزمین پر مبینہ طور پر ایک لمبے عرصے کے لیے خفیہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں مزید دو افراد کو اسی پروگرام کے تحت گرفتار کیا گیا۔

گرفتار ہونے والے مبینہ جاسوسوں میں بعض سنہ انیس سو نوے سے امریکہ میں قیام پذیر ہیں۔ حکام کے مطابق ان افراد کو پالیسی سازی کے عمل میں داخل ہونے کے لیے روس کی خفیہ ایجنسی نے تربیت فراہم کی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ مبینہ جاسوسوں کو کہا گیا تھا کہ امریکی حکام کے دوست بن کر رہیں اور مختلف ذرائع سے روسی حکومت کے لوگوں کو معلومات فراہم کریں۔

گرفتار کیے جانے والوں میں سے نو پر منی لانڈرنگ کا کیس بھی چلایا جائے گا۔ جس کے تحت انھیں بیس سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں