شالیط کے بدلے، ایک ہزار فلسطینی

گیلاڈ شلت فائل فوٹو

اسرائیل نےغزہ میں گرفتار اپنے سپاہی گیلاڈ شالیط کی رہائی کے بدلے ایک ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

واضح رہے کہ سارجنٹ شالیط کو فطسطینی شدت پسندوں نے سنہ دو ہزار چھ میں غزہ بارڑر سے گرفتار کیا تھا۔

سارجنٹ شالیط کی رہائی کے لیے اسرائیل اور حماس کے درمیان گزشتہ برس مذاکرات اُس وقت ناکام ہو گئے تھے جب فریقین قیدیوں کی رہائی کے لیے کسی معاہدے پر متفق نہ ہو سکے۔

سارجنٹ شالیط کی رہائی کے لیے اُن کے خاندان نے گزشتہ اتوار سے گیارہ روزہ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اُن کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے یروشلم میں قائم دفتر کے سامنے سارجنٹ شالیط کی گھر واپسی تک کیمپ لگائیں گے۔

یاد رہے کہ ہزاروں افراد نے سارجنٹ شالیط کی رہائی کے لیے ہونے والے مارچ میں حصہ لیا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم نین یاہو نے خبردار کیا ہے کہ وہ سارجنٹ شالیط کی رہائی کے لیے کوئی قیمت ادا نہیں کریں گے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نین یاہو نے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل کی حکومت اور عوام اپنے سپاہی کی رہائی کے لیے متحد ہیں لیکن اُن کی قوم اِس کے لیے کوئی قیمت ادا نہیں کرے گی۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ رہائی پانے والے شدت پسندوں نے تشدد کا راستہ اپنایا۔

انہوں نے مشہور جبرئل ڈیل جس کے تحت گیارہ سو پچاس شدت پسندوں کو رہا کیا گیا تھا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُن میں سے تقریباً آدھے افراد نے دہشت گردی کو اپنایا۔

نیتن یاہو نے سنہ انیس سو تیراسی کے معاہدہ، جس کے تحت احمد یاسین کو رہا کیا گیا تھا، پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ احمد یاسین نے اپنی رہائی کے بعد حماس کی بنیاد رکھی جس نے متعدد اسرائیلیوں کا قتلِ عام کیا۔

نیتن یاہو نےجرمن ثالث کی جانب سے پیش کیے جانے والے معاہدے کے متعلق کہا کہ وہ سارجنٹ شالیط کی رہائی کے بدلے ایک ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے پر رضا مند ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کہ کہنا ہے کہ حماس نے نین یاہو کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

اسی بارے میں