کانگو:ٹینکر آتشزدگی،’220 ہلاک‘

آئل ٹینکر فائل فوٹو
Image caption حادثے کے نتیجے میں مرنے والے افراد کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں

افریقی ملک ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو میں تیل کا ایک ٹینکر الٹنے کے بعد اس میں موجود تیل میں آگ لگنے سے دو سو بیس افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق تیل کا ٹینکر تنزانیہ جا رہا تھا کہ ملک کے شمال میں سانگی نامی گاؤں کے قریب اُلٹ گیا۔

یہ گاؤں ملک کے جنوب میں واقع ایک قصبے باکاوو سے ستر کلو میٹر کے فاصلے پر برونڈی کی سرحد کے قریب ہے اور یہاں کی بیشتر آبادی کانگو کے فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ پر مشتمل ہے۔

باکاوو میں موجود ایک پولیس افسر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔تاہم یہ واضح نہیں کہ آگ حادثے کے نتیجے میں لگی یا اس کا آغاز بعد میں ہوا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے جنوبی کیوو کی حکومت کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’لوگ جائے حادثہ پر جمع ہوگئے اور پیٹرول رسنے لگا۔ اسی اثناء میں تیل میں دھماکہ ہوا اور آگ پورے گاؤں میں پھیل گئی‘۔

حکام کے مطابق آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے گھاس پھونس سے بنی چھونپڑیوں کو اپنے لپیٹ میں لے لیا اور درجنوں گھر جل کر خاکستر ہوگئے۔

آئی سی آر سی کے مطابق کم از کم دو سو افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج کے پانچ ارکان بھی شامل ہیں۔

بین الاقوامی ریڈکراس کے جیمز رینلڈ کے مطابق ان کی تنظیم نے متاثرہ علاقے میں ادویات اور کفن پہنچانے شروع کر دیے ہیں اور شدید زخمیوں کو ہیلی کاپٹرز کی مدد سے ہسپتال پہنچانے کی تیاریاں جاری ہیں۔

خیال رہے کہ اس خطے میں اس قسم کے حادثات غیر معمولی نہیں کیونکہ ٹینکرز کو پیش آنے والے حادثے کے بعد لوگ تیل جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسی بارے میں