کیوبا: سیاسی قیدیوں کی تعداد میں کمی

سیاسی قیدیوں کی تصاویر
Image caption کیوبا مزید سیاسی قیدیوں کی رہائی پر غور کر رہا ہے

کیوبا میں انسانی حقوق کی ایک غیر سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ سیاسی قیدیوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔

انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم ’کیوبن ہیومن رائٹس کمیشن‘ کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار دس میں سیاسی قیدیوں کی تعداد دو سو ایک سے کم ہو کر کر اب 167 ہو گئی ہے۔

چار سال پہلے جب فدیل کاسترو نے اپنے بھائی راؤل کو اقتدار منتقل کیا تھا تو سیاسی قیدیوں کی تعداد اس سےتقریباً دوگنی تھی۔

تاہم تنظیم کی سربراہ کا کہنا ہے کہ اس کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کا مخالفین سے نمٹنے کے طریقہ کار میں تبدیلی آئی ہے۔ ایلیزاردو سانچیز کے مطابق اب قید کی طویل سزاوں کے بجائے مخالفین کو خوفزدہ اور ہرساں کیا جاتا ہے۔

تنظیم کی رپورٹ کے مطابق اس سال آٹھ سو سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا لیکن ان کو بغیر مقدمہ درج کیے ہوئے پھر رہا کر دیا گیا۔

عالمی سطح پر کیوبا کے جیلوں میں قید سیاسی منحرفین کے معاملے پر حال میں خاصی تنقید ہوئی ہے۔ فروری میں ایک سیاسی قیدی کی بھوک ہڑتال کے بعد موت پر کیوبا کو کافی تنقید کا سامنا ہوا۔

ایک اور سیاسی قیدی گیئیرمو فاریناس بھی اس وقت بھوک ہرتال پر ہیں اور ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ فاریناس علیل قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

ایک معذور قیدی کوحال میں کیتھولک چرچ کی معاونت کے بعد رہا کیا گیا تھا۔

اب سپین کے وزیر خارجہ میگیل مُرانتینوس بھی کیتھولک چرچ کی کوششوں میں مدد کے لیے کیوبا کے دار الحکومت ہاوانا کا دورہ کر رہے ہیں۔ سپین سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کیوبا کی حکومت چھبیس بیمار قیدیوں کی رہائی پر غور کر رہی ہے۔

’کیوبن ہیومن رائٹس کمیشن‘ کو حکام غیر قانونی ہونے کے باوجود کام کرنے دیتے ہیں۔

اسی بارے میں