مسافر طیاروں کو ایندھن مل رہا ہے: ایران

ایران کی وزارت خارجہ نے اطلاعا ت کی تردید کی ہے کہ برطانیہ، جرمنی اور متحدہ عرب امارات ایرانی مسافر طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان رمین مہمان پرست نے کہا ہے کہ ایرانی مسافر طیاروں پر کوئی ایسی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔

پیر کے روز ایرانی ایوی ایشن حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ برطانیہ، جرمنی اور متحدہ عرب امارات اس کے مسافر طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

ایران کی ائرلائن یونین کے سیکرٹری مہدی علییاری نے کہا تھا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے برطانیہ، جرمنی اور متحدہ عرب امارات نے ایرانی مسافر طیاروں کو ایندھن کی فراہمی روک دی ہے۔ایران ائرلائن یونین کے سیکرٹری نے کہا کہ مسافر طیاروں کو ایندھن بیچنے سے انکار عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

برطانیہ اور جرمنی نے ایرانی مسافر طیاروں کو ایندھن کی فراہمی روکے جانے کے بارے میں لاعملی کا اظہار کیا ہے۔ متحدہ عرب امارت کی ابوظہبی ائرپورٹ کمپنی نے کہا ہے کہ ایرانی طیاروں کو معاہدے کے مطابق بدستور ایندھن سپلائی کیا جا رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی ابوظہبی ائرپورٹ کمپنی اور العین کمپنی نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ ایرانی مسافر طیاروں کو ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔ ادارے کی ترجمان نے کہا کہ ان کی کمپنی کا ایرانی ائرلائن کمپنیوں کے ساتھ معاہدے ہیں اور انہیں معاہدوں کے تحت وہ ایرانی طیاروں کو ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے متحدہ عرب امارات کے ایوی ایشن ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایک بین الااقوامی کمپنی جو مسافر جہازوں کو ایندھن سپیلائی کرتی ہے اس نے متحدہ عرب امارات سمیت کئی ملکوں میں ایرانی طیاروں کو ایندھن سپلائی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

برطانیہ اور جرمنی نے کہا ہے کہ یوریی یونین اور اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق ایرانی طیاروں کو ایندھن کی سپلائی مہیا کرنا کوئی خلافِ قانون عمل نہیں ہے لیکن اگر کوئی کمپنی انفرادی طور پر ایسا کرتی ہے تو وہ اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

امریکہ کی طرف سے ایران پر عائد پابندیوں کے مطابق کسی ایرانی ائرلائن کو پانچ ملین ڈالر سالانہ سے زیادہ ایندھن بھیجنے والی کمپنی کو تادیبی کارروائی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ایران کے ایک ممبر پارلیمنٹ ہشمت اللہ نے کہا ہے کہ ایران بھی جوابی کارروائی کرے گا۔انہوں نے کہا ایران بھی ان ملکوں کے بحری اور ہوائی جہازوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرے گا جو اس کے مسافر جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے جبکہ یورپی ممالک کا الزام ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسی بارے میں