سورج سے توانائی لیکر 26 گھنٹے تک پرواز

Image caption پرواز کے دوران اس جہاز نے اٹھائیس ہزار پانچ سو تینتالیس فٹ کی بلندی تک بھی پرواز کی

سورج کی کرنوں سے توانائی حاصل کر کے بدھ کو آزمائشی پرواز شروع کرنے والا ایک جہاز جو رات بھر کامیابی سے اڑتا رہا، جمعرات کو26 گھنٹے ہوا میں رہنے کے بعد با حفاظت سوئٹزلینڈ میں اتر گیا ہے۔

اس جہاز کوبنانے والے سورج کی روشنی سے ایندھن حاصل کر کے اس جہاز کے ذریعے سنہ دو ہزار تیرہ میں دنیا بھر کا چکر لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس جہاز کی کامیاب پرواز اسی جانب ایک قدم تصور کی جا رہی ہے۔

اس جہاز میں انتہائی کفایت والے سولر سیل اور بیٹریاں استعمال کی گئی تھیں تا کہ جب سورج کی کرنیں ماند پڑنی شروع ہوجائیں تب بھی یہ جہاز ہوا میں محوِ پرواز رہ سکے۔

رات بھر اڑنے کے بعد یہ جہاز جمعرات کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح سات بجے سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت برن سے تقریبا تیس میل دور ایک ایئر فیلڈ پر اتر گیا۔ اس کی پرواز کا کل دورانیہ چھبیس گھنٹے تھا۔

پرواز کے دوران اس جہاز نے اٹھائیس ہزار پانچ سو تینتالیس فٹ کی بلندی تک بھی پرواز کی۔

جونہی جہاز زمین پر اترا، معاونین بھاگتے ہوئے جہاز کو سیدھا رکھنے کے لیے اس کی طرف گئے تاکہ اطراف میں پھیلے ہوئے اس کے دو سو سات فٹ لمبے پر زمین سے رگڑ کھا کر کہیں جہاز کو الٹا نہ دیں۔

شمسی توانائی سے پرواز کرنے والے کسی بھی جہاز کی یہ سب سے طویل اور سب سے بلند پرواز ہے۔

چار انجنوں والا اس جہاز کو اینڈرے بورشبرگ چلا رہے تھے جو ماضی میں سوئٹزرلینڈ میں جیٹ طیاروں کے پائلٹ رہے ہیں۔

اس جہاز میں بارہ ہزار شمسی سیل ہیں جنھیں اس کے پروں میں نصب کیا گیا ہے جہاں سے سورج کی کرنیں انھیں اتنی توانائی فراہم کر دیتی ہیں کہ جہاز پرواز کرتا رہتا ہے۔

ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ شمسی توانائی سے چلنے والے کسی جہاز نے رات بھر پرواز کی ہو۔

جمعرات کی صبح جب یہ جہاز تاریکی سے نمودار ہوا تو اس وقت اس کی بیٹریوں میں تین گھنٹے تک مزید پرواز جاری رکھنے کی طاقت تھی جو توقع سے زیادہ ہے۔