’براہِ راست مذاکرات ستمبر سے پہلے شروع کریں‘

Image caption مجھے یقین ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بھی امن کے خواہاں ہیں: اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیل اور فلسطین سے یہودی آباد کاری پر لگی پابندی کی مدت ختم ہونے سے قبل براہ راست مذاکرات شروع کرنے کا کہا ہے۔

یہ بات انہوں نے منگل کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو وہائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد کہی۔

تاہم دوسری جانب فلسطین کے رہنما سائب اراکت نے براہ راست مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ اسرائیل کو امن اور یہودی آبادکاری میں سے کسی ایک کو چننا ہو گا۔

اسرائیل، امریکہ کشیدگی

امن کا راستہ مشکل مگر ضروری ہے: ہیلری

وہائٹ ہاؤس میں امریکی اور اسرائیلی رہنماؤں نے دونوں ممالک میں تناؤ کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔ صدر اوباما نے اس حوالے سے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ’کبھی نہ ختم‘ ہونے والے ہیں۔

صدر اوباما نے امید ظاہر کی کہ اسرائیل اور فلسطین میں مذاکرات ستمبر سے قبل شروع ہو جائیں گے۔ واضح رہے کہ دس ماہ قبل یہودی آبادکاریوں پر اسرائیل کی جانب سے لگائی گئی پابندی کی معیاد اس سال ستمبر میں ختم ہو رہی ہے۔

امریکی صدر نے کہا ’مجھے یقین ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بھی امن کے خواہاں ہیں۔ اور وہ امن کے لیے کوئی بھی قدم اٹھانے سے ہچکچائیں گے نہیں۔‘

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ آئندہ آنے والے دنوں میں امن مذاکرات کے حوالے سے اقدام کیے جائیں گے۔ تاہم انہوں نے ان اقدام کی تقصیل بتانے سے گریز کیا۔

یاد رہے کہ فلسطین نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات اس وقت روک دیے جب اسرائیل نے سنہ دو ہزار آٹھ کے اواخر میں غزہ میں فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

رواں سال مارچ میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات اس وقت ملتوی کردیے گئے جب اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں سول سو یہودی آبادکاری کی منظوری دی۔

دوسری جانب فلسطین کے رہنما سائب اراکت نے براہ راست مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ اسرائیل کو امن اور یہودی آبادکاری میں سے کسی ایک کو چننا ہو گا۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے اراکت نے کہا ’ہم براہ راست مذاکرات شروع کرنا چاہتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ فلسطینی زمین کو یہودی آبادکاری غصب کر رہی ہے۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں میں گرمجوشی دیکھنے کو آئی۔ اور امریکی خاتونِ اول مشیل اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم کی اہلیہ سارہ کو چائے پر مدعو کیا۔

ایک طرف جہاں دونوں ممالک کے سربراہان دونوں ممالک کے روابط مضبوط ہونے کا کہہ رہے تھے اس وقت وہائٹ ہاؤس کے سامنے اسرائیلی کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے۔

مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا ’اسرائیل کو مزید امداد نہ دو‘ اور ’غزہ کا محاصہ ختم کرو‘۔

دریں اثناء اسرائیل کی ایک غیر سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ یہودی آبادکاریوں نے مغربی پٹی کی چالیس فیصد سے زائد زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔

اس تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل منظم طریقے سے عالمی اور قومی قوانین کی خلاف ورزی اور از سرِ نو تشریح کرتا ہے تاکہ فلسطینیوں کی ذاتی زمین پر قبضہ کر سکے۔

اسی بارے میں