عراق بم دھماکوں میں چالیس ہلاک

بغداد کے شمال میں پولیس کے مطابق شیعہ زائرین پر بم حملوں میں چالیس لوگ ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

سنی اکثریت والے ضلع ادحامیہ میں ایک خودکش بمبار نے زائرین کے پیدل قافلے پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ امام موسیٰ الخادم مسجد جارہے تھے۔ اس واقعے میں پینتیس لوگ ہلاک ہوئے۔ جبکہ پانچ مزید افراد بغداد کے مشرقی حصے میں بم حملوں میں ہلاک ہوئے۔

یہ حملے ایک ایسے وقت ہوئے ہیں جب علاقے میں ہزاروں زائرین شیعہ مسلمانوں کے ساتویں امام موسیٰ الخادم کے عرس کی تقریبات میں شرکت کے لیے وہاں جمع ہیں اور اس سلسلے میں عراقی حکام نے پہلے ہی انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے۔

شیعہ اکثریتی علاقے قدیمیہ میں جہاں امام موسیٰ الخادم کا مزار واقع ہے، گاڑیوں کی آمد ورفت پر پابندی لگادی گئی ہے اور زائرین کی گزرگاہوں پر سوا دو لاکھ پولیس اہلکار تعینات کیے گیے ہیں۔

علاقے میں حکام نے حملوں کے خطرے کے پیش نظر موٹر سائیکلوں، سائیکلوں اور گدھا گاڑیوں پر آمدورفت پر بھی پابندی لگادی ہے۔

ان حملوں سے پہلے عراقی فوج کے میجر جنرل احمد السعدی کا کہنا تھا کہ انہیں شیعہ زائرین پر حملوں کا خدشہ تھا۔

عراق کے سابق صدر صدام حسین کی حکومت نے امام موسیٰ الخادم کے عرس پر پابندی لگا رکھی تھی تاہم ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد اب عرس کی تقریبات ہر سال باقاعدگی سے ہوتی ہیں اور ان میں ہزاروں لوگ شرکت کرتے ہیں۔

ادحامیہ کے ایک رہائشی نے بتایا کہ وہ چائے پی رہے تھے اور پیدل چلتے زائرین کو دیکھ رہے تھے جب خود کش حملہ ہوا۔

ان کے بقول حملے میں بعض سنی مسلمان بھی ہلاک اور زخمی ہوئے جو زائرین میں لنگر اور پانی تقسیم کررہے تھے۔

حملوں کے باوجود کئی زائرین کا کہنا تھا کہ وہ ان واقعات سے خوفزدہ نہیں ہوں گے اور اپنی مذہبی رسومات جاری رکھیں گے۔

یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب امریکہ اگلے مہینے کے اختتام تک عراق سے اپنی تمام فوجیں واپس بلانے کی تیاریاں کررہا ہے۔

اسی بارے میں