امریکہ: پانچ افراد پر فردِ جرم عائد

امریکی حکام نے پاکستان میں موجود القاعدہ رہنماؤں کے حکم پر نیو یارک کی زیر زمین ٹرین سٹیشن اور برطانیہ میں نامعلوم مقام پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام پر پانچ افراد پر فردِ جرم عائد کردی ہے۔

ان پانچ کے علاوہ دو مزید افراد نجیب اللہ زازی اور زرین احمدزئی نے پہلے ہی نیو یارک سب وے پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق جن پانچ افراد پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا فردِ جرم عائد کیا گیا ہے ان میں عدنان الشکریجمہ، ادیس مدنجینن، عابد نصیر، طار الرحمان اور احمد شامل ہیں۔

ادیس، زازی اور احمدزئی نے ایک ہی سکول میں تعلیم حاصل کی ہے۔ ادیس کو جنوری میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہوں نے اپنے آپ پر نیو یارک سب وے پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

ان پر لگے نئے الزامات کے مطابق انہوں نے نیو یارک میں گاڑی خودکش حملے کا منصوبہ بنایا تھا۔

ان پانچ پر لگائے گئے فردِ جرم کے مطابق عدنان جو کہ القاعدہ کے آپریشنز کے سربراہ ہیں اور احمد نے ادیس، زازی اور زرین کو امریکہ میں دہشت گردی کی کارروائی کرنے کے لیے بھرتی کیا اور ان کو احکامات دیے۔

استغاثہ کے مطابق نیو یارک میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کو برطانیہ میں حملے کا منصوبہ احمد نے بنایا۔

استغاثہ کا مزید کہنا ہے کہ احمد پر پاکستان کے شہر پشاور میں القاعدہ کا مددگار ہونے کا الزام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ احمد نے نیویارک پر حملے کے حوالے سے زازی کے ساتھ اور برطانیہ میں حملے کے حوالے سے نصیر کے ساتھ روابط رکھے۔

یاد رہے کہ نصیر اور رحمان کو برطانیہ میں اپریک دو ہزار نو میں حراست میں لیا گیا تھا۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے قبضے سے مانچسٹر کے علاقوں کی تصاویر برآمد ہوئی تھیں لیکن حکام کے پاس ٹھوس ثبوت نہ ہونے کے باعث ان کو رہا کردیا گیا تھا۔

نصیر کو بدھ کے روز دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے اور ان کو ملک بدر کر کے امریکہ بھیجے جانے کا امکان ہے۔

جبکہ رحمان، عدنان اور نصیر مفرور ہیں۔

اسی بارے میں