سربرنیتزا میں قتل عام کی برسی

Image caption انیس سو پچانوے میں سربرنیتزا میں سات ہزار مسلمانوں کو بوسنیائی سرب فوج نے ہلاک کر دیا تھا۔

بوسنیا کے شہر سربرنیتزا میں مسلمانوں کے قتل عام کی پندرویوں برسی کے موقع پر اتوار کو ایک تقریب میں اس وقت ہلاک ہونے والے سینکڑوں افراد کی تدفین کی جا رہی ہے۔

پوٹوکاری نامی قبرستان میں ان سات سو پچھتر تابوتوں کو قبروں میں اتارا جا رہا ہے جس میں ہلاک ہونے والوں کی ہڈیاں رکھی گئی ہیں۔ یہ جسمانی باقیات اجتماعی قبروں سے ملی تھیں اور انہیں حال ہی میں شناخت کیا گیا ہے۔

جولائی انیس سو پچانوے میں سربرنیتزا میں سات ہزار مسلمانوں کو بوسنیائی سرب فوج نے ہلاک کر دیا تھا۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں ہونے والا سب سے بڑا قتل عام تھا۔

آج ہونے والی یادگاری تقریب میں سربیا کے صدر بورس تاجک بھی شریک ہو رہے ہیں۔ ان کی شرکت کو علامتی طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس برس مارچ میں سربیا کی پارلیمنٹ نے ایک تاریخی قرار داد منظور کی تھی جس میں بوسنیائی مسلمانوں کے قتل عام پر معافی مانگی گئی تھی۔

جنگ کے دوران سربرنیتزا کو اقوام متحدہ نے محفوظ علاقہ قرار دیا تھا جہاں انیس سو بانوے سے پچانوے کے دوران ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں نے پناہ لی تھی لیکن بوسنیائی سرب فوج نے اقوام متحدہ کے تحت وہاں تعینات ہالینڈ کی ہلکے اسلحے سے لیس فوج کو آسانی سے پسپا کردیا تھا

اتوار کو پوٹوکاری نامی قبرستان میں ہونے والی تقریب میں ہزاروں افراد شریک ہو رہے ہیں۔ یہ سربرنیتزا میں اِس نوعیت کی اب تک کی سب سے بڑی تقریب ہے۔ اِس قبرستان میں بوسنیا کی جنگ میں ہلاک ہونے والے چار ہزار افراد پہلے ہی دفن ہیں جن کی تعداد میں اتوار کو سات سو پچھتر کا اضافہ ہو رہا ہے۔

حسن اور سوہرا کی عمریں اب اسی کے لگ بھگ ہیں۔ دونوں اتوار کو بالآخر اپنے بیٹوں فواد اور سواد کو دفنا رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے حسن کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کو ترجیح دیتے کہ سب ساتھ ہی ہلاک کر دیے جاتے تاکہ انہیں اس تکلیف کے ساتھ زندہ نہ رہنا پڑتا۔

دوسری جانب اکثر سرب انیس سو پچانوے کے واقعات کے بارے میں اپنے اختلاف کا اظہار کرتے ہیں۔ ان سربوں کا کہنا ہے کہ سربرنیتزا میں جرائم کے ہونے سے وہ انکار نہیں کرتے لیکن ہلاکتوں کی تعداد کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔

سربرنیتزا میں مسلمانوں کے قتل عام کی پندرویوں برسی کے موقع پر امریکہ کے صدر باراک اوبامہ نے اس قتل عام کو ناقابلِ تصور سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بوسنیائی سرب فوج کے مفرور کمانڈر رادکو ملادچ سمیت جنگی جرائم کے مرتکب دیگر سرب رہنماوں کو عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ یہ قتل عام پورے یورپ کے لیے باعث شرم ہے۔

اسی بارے میں