افغانستان میں ہلاکتیں

افغانستان ہلاکتیں
Image caption اِس سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران تشدد اور سیکیورٹی سے متعلق واقعات میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں

افغانستان میں ایک انسانی حقوق کے گروپ نے کہا ہے کہ اِس سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران تشدد اور سیکیورٹی سے متعلق واقعات میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ افغانستان رائیٹس مانیٹر نامی گروپ نے پیر کے روز جاری ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ یہ تعداد گزشتہ سال کے پہلے نصف کے مقابلے میں زرا زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مصنفین نے کہا ہے کہ افغانستان میں جاری مسلح مزاحمت اب پہلے سے زیادہ ہلاکت خیز، کئی سطحوں پر محیط اور مضبوط ہوگئی ہے۔ اِس سال کے پہلے نصف میں کل ایک ہزار چوہتہر افراد ہلاک اور ایک ہزار پانچ سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں جبکہ زیادہ تر ہلاکتیں مزاحمت کاروں کے ہاتھوں ہوئی ہیں۔

رپورٹ نے وسیع پیمانے پر سڑک کے قریب نصب کئے گئے بموں کو خاص طور پر انتہائی ہلاکت خیز قرار دیا ہے جن کی وجہ قریب اس مدت کے دوران تین سو عام شہری ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ خود کش بم حملوں کو بھی ہلاکتوں کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

امریکہ کی زیر قیادت افواج عام شہریوں کی ہلاکتوں کو کم رکھنے کی اپنی پوری کوشش کررہیں ہیں جس کی ایک ضمنی وجہ افغان حکومت کا دباؤ بھی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود بین الاقوامی افواج کے سابق سربراہ جنرل سٹینلے میک کرسٹل کی متعارف کروائی ہوئی شورش کو قابو کرنے کی حکمت عملی کے کچھ اثرات ضرور مرتب ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں نصف ہوئی ہے۔ لیکن گزشتہ چھ ماہ کے دوران نیٹو افواج کے فضائی حملوں، فائرنگ اور چھاپوں میں دو سو سے زیادہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہاں غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکتیں شہہ سرخیوں میں بیان کی جاتی ہیں تو وہاں بڑے پیمانے پر افغان عام شہریوں کی ہلاکتوں کی خاصی کم اہمیت نظر آتی ہے۔