ایران: سنگساری ’وقتی طور‘ پر معطل

سکینہ

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی عدلیہ نے ناجائز جنسی تعلقات کی مرتکب پائی جانے والی عورت کو سنائی گئی سنگساری کی سزا کو وقتی طور پر معطل کر دیا ہے۔

ایران کے مشرقی صوبے آذربائیجان کے عدلیہ کے سربراہ ملک اجدار شریفی نے کہا ہے کہ جب عدلیہ کے سربراہ فیصلہ کریں گے اس وقت سزا پر عمل درآمد ضرور ہو گا۔

تینتالیس سالہ سکینہ محمدی اشتیانی کو سنائی جانے والی سنگساری کو ختم کروانے کے لیے عالمی سطح پر مہم شدید ردِ عمل دیکھنے میں آیا تھا۔ برطانوی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے سزا پر عمل کیا تو پوری دنیا کو بہت برا لگے گا۔

محمدی اشتیانی سنہ 2005 سے شمال مشرقی صوبے تبریز کی جیل میں ہیں۔انہیں ابتدائی طور پر ننانوے کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ سکینہ کو ابھی بھی سزائے موت دی جا سکتی ہے۔

اجدار شریفی نے ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کو بتایا کہ سنگساری کی سزا کو روکنے کا فیصلہ انسانی حوالے سے تحفظات اور قابلِ قدر عدلیہ کے سربراہ (صادق لاریجانی) کے حکم پر کیا گیا ہے اور اس پر تاحال عمل درآمد نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ’جب بھی عدلیہ کے سربراہ محسوس کریں گے سزا پر عمل درآمد ہونا چاہیئے، تو مغربی میڈیا کے پروپیگنڈے کے باوجود سزا پر عمل درآمد کیا جائے گا۔‘

گزشتہ جمعہ کو ایران کے انسانی حقوق کے کمشنر محمد جواد لاریجانی نے کہا تھا کہ سکینہ کی سزائے موت کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ جج بہت کم ہی سنگساری کی سزا پر دیتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سنہ 2006 سے لے کر اب تک کم از کم چھ افراد کو سنگسار کیا جا چکا ہے جبکہ پندرہ افراد کو یہ سزا نہیں دی گئی۔

لاریجانی نے یہ نہیں بتایا کہ اب سکینہ کو کیا سزا دی جائے گی۔

اسی بارے میں