برازیل: بچوں کو مارنے پر پابندی کا بل

Image caption اگر مار پیٹ یا سزا سے معاملات حل ہوجایا کرتے، تو اس ملک میں نہ اتنی زیادہ کرپشن ہوتی اور نہ اتنی لوٹ مار: برازیلی صدر

برازیل کے صدر لُولا ڈی ِسلوا نے بچوں کی جسمانی سزا پر پابندی کا بل کانگریس کو بھیج دیا ہے۔ بل کی منظوری سے بچوں کو تھپڑ مارنے یا ان کے ساتھ ظالمانہ یا توہین آمیز سلوک پر پابندی لگ جائے گی۔

برازیل کے صدر کا کہنا تھا کہ بل کا مقصد یہ نہیں کہ والدین بچوں کی پڑھا لکھا نہ سکیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہر کسی کو علم ہے کہ چپت لگانے سے بچہ اتنا ہی سیکھتا ہے جتنا کہ زبانی سمجھانے سے ۔

برازیل میں بچوں سے زیادتی غیر قانونی ہے لیکن مجوزہ قانون سے پہلی مرتبہ والدین یا سرپرستوں پر بچوں کو چپت لگانے یا چانٹا مارنے پر واضح پابندی لگ جائے گی۔

وہ والدین جو اس قانون کو نظر انداز کریں گے انھیں پہلے خبردار کیا جائے گا لیکن اگر وہ بار بار اس جرم کے مرتکب ہوئے تو انھیں بچوں کی حفاظت کے لیے ترتیب دیے جانے والے نشستوں میں بیٹھنے کا حکم بھی دیا جا سکتا ہے۔آخری درجے پر برازیل میں بچوں کی حفاظت پر مامور ادارۂ خدمات ان گھروں میں مداخلت کرے گا جہاں ایسے مسائل مستقلاً ہوں گے۔

اس بل پر ممکنہ اعتراضات یا اس کی مخالفت کے پیشِ نظر صدر لولا کا کہنا تھا کہ بل کے نقاد کہیں گے کہ حکومت والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم و تادیب سے روکنے کی کوشش کرر رہی ہے۔ ’ہم ماں کو ماں کا کردار ادا کرنے سے روکنا نہیں چاہ رہے۔ ہم تو بس یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کام کرنے کے اور بھی انداز ہوتے ہیں۔‘

برازیلی صدر جو ایک غریب مہاجر خاندان کے آٹھ غریب بہن بھائیوں میں سے ایک ہیں کہتے ہیں کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ ان کی والدہ نے انھیں یا ان کے بہن بھائیوں میں سے کسی کو کبھی نہیں مارا۔

’اگر مار پیٹ یا سزا سے معاملات حل ہوجایا کرتے، تو اس ملک میں نہ اتنی زیادہ کرپشن ہوتی اور نہ اتنی لوٹ مار‘

انھوں نے کہا کہ برازیلی والدین اور بچوں کے درمیان منشیات اور سیکس جیسے معاملات پر بھی کھلی کھلی گفتگو ہونی چاہیے۔