گیمبیا میں آرمی چیف کو سزائے موت

صدر یحیٰ
Image caption عدالت کا فیصلہ سن کر ملزمان کے رشتہ دار پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے

گیمبیا میں ایک جج نے ملک کے سابق آرمی چیف سمیت آٹھ افراد کو گزشتہ سال حکومت کا تختہ الٹنے کی مبینہ سازش میں حصہ لینے پر موت کی سزا سنائی ہے۔

جج ایمینیوئل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سابق آرمی چیف سمیت آٹھوں افراد غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔ سزا پانے والے افراد تیس دن کے اندر اندر فیصلے کے خلاف اپیل کا حق رکھتے ہیں۔

سزا پانے والوں میں سابق آرمی چیف، سابق انٹیلیجنس چیفاور پولیس کے سابق ڈپٹی چیف شامل ہیں۔

عدالت میں موجود ایک نامہ نگار نے بی بی سی کو بتایا کہ جب جج نے سنایا تو ملزمان کے اقرباء پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔

صدر یحیٰ کے خلاف فوجی افسران پر سازش کا الزام پہلی مرتبہ نہیں لگا۔ انھوں نے سنہ انیس سو چورانوے میں جو وہ نوجوان تھے اور فوج میں لفٹیننٹ تھے، اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ تب سے اب تک انھوں نے تین مرتبہ کثیرالجماعتی انتخابات بھی جیتے ہیں لیکن ان انتـخابات پر بہت زیادہ تنقید ہوئی ہے۔

جن افراد کو سزا سنائی گئی ہے ان پر اسلحہ، گولہ بارود اور متعلقہ سامان حاصل کرنے کے علاوہ حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے کرائے کے قاتلوں کی خدمات حاصل کرنے کا بھی الزام ہے۔

اے ایف پی کے مطابق استغاثے اور ملزمان کی پیش کردہ شہادتوں کو دیکھ کر جج نے کہا ’میں تمام ملزموں کو قصوروار ٹھہراتا ہوں اور انھیں موت کی سزا کا حکم دیتا ہوں۔‘

خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ گیمبیا میں آخری مرتبہ سنہ دو ہزار سات میں کسی کو پھانسی ہوئی تھی۔

سنہ دو ہزار چھ میں حکومت کا تختہ الٹنے کی پاداش میں کئی افراد کو جیل کی طویل سزائیں سنائی گئی تھیں۔