لاپتہ ایرانی سائنسدان وطن روانہ

شاہرام امیری
Image caption امیری کی واپسی پر ہی معاملے کا پردہ فاش ہوگا

ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق ایران کے سائنسدان شاہرام امیری امریکہ سے ایران کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔

تہران میں دفتر خارجہ نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ وہ امریکہ سے ایران کے لیے چل پڑے ہیں۔

ایران کا الزام ہے کہ شاہرام امیری کو امریکہ نے اغوا کرلیا تھا۔ لیکن امریکہ نے ان کو اغوا کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے شاہرام امیری اپنی مرضی سے امریکہ میں تھے۔

ایک برس قبل شاہرام امیری جب حج کے لیے سعودی عرب گئے تھے تو وہیں سے وہ لاپتہ ہوگئے تھے۔

منگل کی صبح ایران کے سرکاری ریڈیو نے اطلاع دی تھی کہ کچھ گھنٹے قبل ہی شاہرام امیری نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں ایرانی مفاد سے متعلق شعبہ میں پناہ لی ہے اور وہ ایران فورا واپسی کے متمنی ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے بھی اس کی تصدیق کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی سائنسدان کو واشنگٹن میں ’ایرانی انٹرسٹ سیکشن‘ کے حوالے کیا گیا ہے اور ایرانی حکام انہیں واپس وطن بھیجنے کا انتظام کر رہے ہیں۔

ایران کا الزام ہے کہ شاہرام امیری کو امریکہ نے سعودی عرب سے اغوا کرلیا تھا اور وہ وہاں پر قید تھے۔ شاہرام امیری ایک سال قبل جب حج کے لیے سعودی عرب گئے تھے تو وہیں سے وہ لاپتہ ہوگئے تھے۔

شاہ رام امیری کے متعلق تین متضاد ویڈیو سامنے آچکی ہیں۔ پہلی ویڈیو میں شاہرام امیری الزام لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ انہیں حجاز مقدس سے سعودی اور امریکی ایجنٹوں نے اغواء کیا اور تشدد کے ذریعے انہیں یہ کہنے پر مجبور کیا کہ وہ خود ایران سے بھاگ کر امریکہ پہنچے ہیں۔

دوسری ویڈیو میں شاہرام امیری یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے امریکہ آئے ہیں اور وہ امریکی ریاست ایریزونا میں مقیم ہیں۔ تیسری ویڈیو میں، جو ایرانی ٹیلی ویژن پر نشر کی گئی تھی، شاہرام امیری اپنی دوسری ویڈیو کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ سب جعلی ہے اور وہ امریکی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

ماضی میں امریکہ سختی سے تردید کرتا رہا ہے کہ اس نے ایران کے سائنسدان کو اغواء کیا تھا۔ البتہ امریکہ میں میڈیا نے یہ خبر ضرور دی تھی کہ ایرانی سائنسدان امریکہ میں موجود ہیں اور وہ ایران کے مخالف ہو گئے ہیں۔

ایک امریکی خبررساں ادارے اے بی سی نیوز نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا تھا کہ ایرانی سائنسدان خود بھاگ کر امریکہ پہنچے ہیں اور وہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سی آئی آے سے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔

.ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق شاہ رام امیری تہران یونیورسٹی میں بطور تحقیق کار کے کام کرتے ہیں لیکن کچھ دوسری رپورٹوں کے مطابق شاہرام امیری ایران کی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے لیے کام کرتے ہیں اور وہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں وسیع معلومات رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں