ایران: مسجد پر خودکش حملہ

دھماکے کے بعد کے مناظر
Image caption دھماکہ مقامی وقت کے مطابق رات سوا نو بجے کے قریب ہوا

پاکستان سے متصل ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان میں ایک مسجد پر خود کش حملے میں کم سے کم بیس افراد ہلاک اور سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں ایران کے انقلابی گاڑڈ کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

حملے کی ذمہ داری عسکریت پسند تنظیم جنداللہ ے قبول کر لی ہے۔

سیستان بلوچستان کا شہر زاہدان ایک اکثریتی سنی علاقہ ہے لیکن اس حملے میں ایک شیعہ مسجد کو نشانہ بنایا گیا۔ مسجد پر حملہ امام حسین کی سالگرہ کے موقع پر کیا گیا۔ حملہ مقامی وقت کے مطابق رات سوا نو جے کے قریب ہوا۔

حکام کے مطابق اس حملے میں دو خود کش دھماکے کیے گئے۔ علاقے کے رکن پارلیمان علی حسین شہریاری نے فارس میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پہلا حملہ آور خو

اتین کے کپڑے پہنے ہوا تھا اور عورتوں کے ساتھ مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا لیکن جب اسے روکا گیا تو اس نے دھماکہ کر دیا۔اس دھماکے کے بعد جب لوگ زحمیوں کی امداد کے لیے جمع ہوئے تو ایک اور خود کش حملہ آور نے دوسرا دھماکہ کر دیا۔

صوبے میں ایمرجنسی سروسز کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس حملے میں بیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور کم سے کم سو زحمی ہیں۔

Image caption مئی 2009 میں بھی زاہدان کی مسجد کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا

ایران کے صوبے سیستان بلوچستان میں کئی سالوں سے سنی عسکریت پسند تنظٌیم جند اللہ سرگرم ہے اور پچھلے ماہ ایران نے اس کے رہنما عبد المالک ریگی کو پھانسی چڑھا دی تھی۔

پچھلے سال مئی میں بھی زاہدان کی ایک مسجد پر بم حملہ ہوا تھا جس کے بعد ایران نے تہران میں پاکستانی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے زاہدان کی مسجد میں دھماکہ کرنے والےگروپ جنداللہ گروپ کی کارروائیوں پر احتجاج کیا تھا جو بقول ان کے پاسکتانی صوبہ بلوچستان میں سرگرم ہے۔

اسی بارے میں