ایرانی سائنسدان ایران واپس پہنچ گئے

شاہ رام امیری قطر سے تہران جانے والی پرواز کے ذریعے واپس آئے ایران کے جوہری سائنسدان شاہ رام امیری امریکہ میں پُر اسرار اور متنازع قیام کے بعد اب واپس ایران پہنچ گئے ہیں۔

شاہ رام امیری قطر سے تہران جانے والی پرواز کے ذریعے جمعرات کی صبح وطن واپس پہنچ گئے۔

تہران کے ہوائی اڈے پر شاہ رام امیری نے ایک اخباری کانفرنس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا کبھی ایران کے جوہری پروگرام سے تعلق نہیں رہا ہے اور ایک بار پھر کہا کہ ان کو سی آئی اے نے ہی اغوا کیا تھا۔

اس سے پہلے بھی انہوں نے امریکی خفیہ ادارے سی ائی اے پر انہیں سعودی عرب سے اغوا کرنے کا الزام لگایا تھا تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے امریکہ آئے تھے۔

پچھلے ماہ شاہ رام امیری نے تین مختلف ویڈیوز میں متضاد کہانیاں بیان کی تھیں۔ پہلی ویڈیو میں انہوں نے سعودی اور امریکی ایجنٹوں پر ان کو اغوا کرنے کا الز ام لگایا تھا تاہم دوسری ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے امریکہ میں مزید تعلیم کے لیے آئے ہیں اور وہ آزاد طور پر ریاست ایریزونا میں رہ رہے ہیں۔ تیسری ویڈیو میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ امریکی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ تین روز پہلے یعنی پیر کو وہ واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخاے میں قائم ایرانی سیکشن میں پہنچ گئے تھے (ایران اور امریکہ کے سفارتی تعلقات منقطع ہیں اور واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانہ امریکہ میں ایرانی مفادات کی نگرانی کرتا ہے)۔

منگل کی صبح ایران کے سرکاری ریڈیو نے خبر نشر کی تھی کہ ’ کچھ گھنٹے قبل ہی شاہ رام امیری نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں ایرانی مفاد سے متعلق شعبہ میں میں پناہ لی ہے۔ وہ ایران فورا واپسی کے متمنی ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اس کے جوہری سائنسدان شاہ رام امیری کو ایک سال پہلے سعودی عرب سے اغوا کیا تھا جہاں وہ حج یا عمرہ کی غرض سےگئے تھے۔

ماضی میں امریکہ سختی سے تردید کرتا رہا ہے کہ اس نے ایران کے سائنسدان کو اغواء کیا تھا۔ البتہ امریکہ میں میڈیا نے یہ خبر ضرور دی تھی کہ ایرانی سائنسدان امریکہ میں موجود ہیں اور وہ ایران کے مخالف ہو گئے ہیں۔

ایک امریکی خبررساں ادارے اے بی سی نیوز نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا تھا کہ ایرانی سائنسدان خود بھاگ کر امریکہ پہنچے ہیں اور وہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سی آئی آے سے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔

.ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق شاہ رام امیری تہران یونیورسٹی میں بطور تحقیق کار کے کام کرتے ہیں لیکن کچھ دوسری رپورٹوں کے مطابق شاہ رام امیری ایران کی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے لیے کام کرتے ہیں اور وہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں وسیع معلومات رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں