امریکہ: مالیاتی اصلاحات کا بل منظور

امریکی سینیٹ
Image caption بل کے حق میں سینیٹ 60 ووٹ تھے جبکے اس کے خلاف 39 تھے

امریکی سینیٹ نےصدر اوباما کے مالیاتی اصلاحات بل کو حتمی منظوری دے دی ہے۔ وال سٹریٹ اور بینکاری نظام میں قواعد و ضوابط کے اصلاحات سے متعلق بل کو سینیٹ نے 39 کے مقابلے میں 60 ووٹ سے منظور کر لیا ہے۔

سنہ 2008 کے مالیاتی بحران کی بڑی وجہ بینکاری کے شعبے میں ناکافی قواعد اور بینکوس کے غیر مناسب قرضے اور منصوبے تھے۔ ان مالیاتی اصلاحات کا مقصد بینکوں کی خطرناک کارروائیوں کو محدود کرنا ہے تاکہ دو برس پہلے جیسا مالیاتی بحران دوبارہ نہ پیش آسکے۔

نئے قانون کے تحت امریکہ میں بینک کے قرضوں کی نگرانی کے لیے ایک نیا وفاقی ادارہ قائم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دیگر پیچیدہ سرمایہ کاری کے طریقوں کے لیے واضح قواعد بنائے گئے ہیں۔ اس قانون میں صارفین کے تحفظ کو بہت اہمیت دی گئی ہے او صارفین کے حقوق کا نگراں ادارہ کریڈٹ کارڈ کمپنیوں اور قرض دینے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کر سکے گی۔

اس قانون کے تحت بڑے بینکوں کو قرضوں کی سکیورٹی میں رکھی گئی رقم میں ہر پانچ سال کے بعد اضافہ کرنا ہوگا تاکہ یہ قرضے خراب یا کھوکلے نا ہو جائیں۔

ان مالیاتی اصلاحات میں ’وولکر رول‘ نامی ضابطہ بھی متعارف کیا جا رہا ہے۔ اس کا نام مرکزی بینک کے سابق سربراہ پال وولکر پر رکھا گیا ہے جنہوں نے اس کو تجویز کیا تھا۔ وولکر رول کے تحت بینکوں کی مالیاتی منڈیوں میں سٹے باز کارروائیوں کو محدود کیا جائے گا۔

امریکہ کے وزیر خزانہ ٹمتھی گائٹنر نے اس بل کی منظوری کو سراحتے ہوئے اسے ستر سال میں کیے جانے سب سے اہم مالیاتی اصلاحات قرار دیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بل کی منظوری صدر اوباما کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔ انہیں اس سلسلے میں وال سٹریٹ کے اداروں اور ریپبلکن پارٹی سے سخت مخالفت کا سامنا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ اس قانون سازی کو روکنے کے لیے ریپبلکن پارٹی اور بینکوں نے لاکھوں ڈالر خرچ کیے تھے۔

اسی بارے میں