’برطانوی فوجیوں کو اپنے طور پر مارا‘

افغانستان
Image caption افغانستان کے صوبہ ہلمند میں ایلیٹ افغان پولیس کا وہ کمپاؤنڈ جہاں برطانوی فوجیوں پر حملہ کیا گیا۔

افغانستان کے صوبہ ہلمند میں تین برطانوی فوجیوں کو ہلاک کرنے اور خود کو باغی قرار دینے افغان نے بی بی سی سے رابطہ کر کے کہا ہے کہ اس نے فوجیوں کو مارنے کا کام اکیلے اور اپنے طور پر کیا۔

اس شخص کا کہنا ہے کہ وہ برطانوی فوجیوں کے طرزِ عمل سے ناراض تھا اور ہلاکتوں کے بعد وہ طالبان میں شامل ہو گیا۔

’میں برطانوی فوجیوں سے ناراص تھا‘

گزشتہ منگل کو رائل گورکھا رائفلز کے تین ارکان کو ہلاک کرنے والے اکیس سالہ طالب حسین نامی اس شخص کا تعلق افغانستان کے صوبے غزنی سے ہے۔

برطانوی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ وہ اس شخص کے دعوے سے آگاہ ہے۔

بندوق اور راکٹ پروپیلڈ گرینیڈ سے کیے جانے والے اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کے نام ولٹشر انگلینڈ کے جیمس جوشوا براؤن، شمالی آئرلینڈ کے نیل ٹرکنگٹون اور نیپال کے ارجن پُرجا پن شامل تھے۔

اس گفتگو کے لیے حملے کے اڑتالیس گھنٹے بعد جمعرات کو طالبان نے بی بی سی کے کابل بیورو سے رابطہ کیا اور رابطے کے لیے ایک موبائل نمبر دیا۔

جب اس نمبر پر فون کیا گیا تو تو درمیانی شخص نے فون ایک اور آدمی کو تھما دیا۔

جس سے بی بی سی پشتو کے داؤد اعظمی کی دس گیارہ منٹ تک گفتگو ہوئی۔

افغانستان میں برطانوی فوجیوں پر یہ حملہ ایلیٹ افغان پولیس یونٹ کے کمپاؤنڈ میں کیا گیا تھا۔

برطانوی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ’ہم بزدلانہ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے لیکن یہ کہنا انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ ہم خود کش حملوں یا جان بوجھ کر شہریوں کی ہلاکتوں میں ملوث ہیں‘۔

وزارت کے مطابق ’شورشی اور افعانستان میں اتحادی مشن کے مخالفین کا معمول ہے کہ وہ بڑھا چڑھا کر دعوے کرتے رہتے ہیں اس لیے ان کی جانب سے اس طرح کے دعووں کو ان کے بیان کے مطابق قبول کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے‘۔

اسی بارے میں