خلیج میکسیکو سے تیل کا رساؤ بند

فائل فوٹو

برٹش پیٹرولیم کا کہنا ہے کہ خلیج میکسیکو میں اس نے اپنے کنوئیں سے بہنے والے تیل کو وقتی طور پر روک دیا ہے۔

تیل کا رساؤ سے بیس اپریل کو شروع ہوا تھا تب سے پہلی بار اسے روکا جا سکا ہے۔

تجربے کے طور پر کنوئیں کو ایک ڈھکن سے سیل کر دیاگیا ہے۔ بی پی کے اہلکار انتظار کر رہے ہیں کہ یہ ڈھکن کتنا پریشر سہہ سکتا ہے۔

امریکہ کے صدر باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ ایک ’مثبت پہلو ہے ‘ لیکن برٹش پیٹرولیم کے لیے اب بھی مشکل ترین امتحان کا دور ہے۔

بی پی کے اہلکار کا کہنا تھا ’یہ دیکھنا بہت خوشی کی بات ہے کہ خلیج میکسیکو میں تیل اب نہیں جارہا ہے۔‘

Image caption ابھی عارضی طور پر تیل کا نکلا بند ہوا ہے

تیل کے رساؤ کے رکنے کی خبر کے بعد ہی نیو یارک میں بی پی کے شیئر میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ اڑتالیس گھنٹے تک تیل کا بہنا بند ہوجائے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تیل کا رساؤ پوری طرح بند ہو گیا ہے۔

برٹش پیٹرولیم کے موجودہ چیف ڈن سٹل کا کہنا ہے کہ ابھی زیادہ خوش ہونے کی بات نہیں ہے۔ خاص طور پر تیل سے بعض علاقوں کو پہلے ہی کافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ ابھی کام ختم نہیں ہوا ہے۔

دباؤ کے ذریعے کنوئیں کی مضبوطی کی جانچ بہت ضروری ہے۔ اگر ڈھکن کے اوپر دباؤ کم ہوگا تو اس کا مطلب یہ کہ کنوئیں میں ابھی کسی اور جگہ رساؤ باقی ہے۔

امریکہ میں ہنگامی حالات کے کمانڈر ایڈم تھیڈ ایلن کا کہنا ہے کہ اگر یہ کوشش کامیاب بھی ہو جاتی ہے تب بھی کنوئیں کو دوبارہ کھولا جائیگا اور جہاز اس تیل کو دوبارہ جمع کرنا شروع کریں گے۔

ان کا کہنا تھا '' ہم پھر دوبارہ اس پورے نظام پر دباؤ ڈال کر دیکھیں گے۔ جب ہمیں پورا یقین ہو جائیگا تب کنوئیں کےدہانے کو بند کیاجائیگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس دوران اگر تیل نکلتا ہے تو ترجیح اس بات کی ہوگی کہ تیل کو زیادہ سے زیادہ بہنے سے روکا جا سکے اور اسے جمع کر کے پائپ کے ذریعے اوپر لایا جا سکے۔

جو بھی کچھ ابھی تک ہوا ہے اسے ایک عارضی حل کہا جا رہا ہے اور اس کی کامیابی یا نا کامیابی کا انحصار دباؤ ڈال کر تجربہ کرنے پر ہے۔

اس دوران امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ وہ اس مطالبے پر غور کر رہی ہیں جس میں چار سینیٹرز نے برٹش پیٹرولیم کی اس بات کے لیے جانچ کا مطالبہ کیا ہے کہ بی پی نے لیبیاء سے تیل کے معاہدے حاصل کرنے کے لیے لاکربی حملے میں کے ایک ملزم عبدالباسط مغراہی کو رہا کرانے میں لابنگ کی تھی یا نہیں۔

واشنگٹن میں وزارت خارجہ کے دفتر نے کہا اس بارے میں انتیس جولائی کو پھر سے بات چیت کی جائیگي۔

اسی بارے میں