زاہدان دھماکے، اوباما کی مذمت

زاہدان دھماکے
Image caption زاہدان دھماکوں کی ذمہ داری جنداللہ نامی تنظیم نے قبول کی ہے

امریکی صدر براک اباما نے ایران میں ہونے والے بم دھماکوں کی پر زور مذمّت کی ہے۔ ان حملوں میں 27 افراد ہلاک اور 270 زخمی ہوئے تھے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار زبیر احمد کے مطابق امریکی صدر نے ایک بیان میں کہا کہ وہ جنوب مشرقی ایران میں ایک مسجد پر ہوئے دہشت گرد حملوں کی سخت مذمّت کرتے ہیں۔

’معصوم لوگوں کا ان کی عبادت گاہ میں قتلایک ناقابل برداشت عمل ہے اور جن لوگوں نے یہ حملے کیے ہیں انہیں اس کی ذمہ داری لینی پڑیگی۔

’صدر اباما نے اپنے تحریری بیان میں ایران کے لوگوں سے کہا کی اس مشکل گھڑی میں وہ ان کے ساتھ ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم سب لوگوں کو ایک ساتھ مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہوگا اور انسانی حقوق کی حمایت کرنی ہوگی تاکہ ہم خوف اور تشدّد سے آزاد ہو کر رہیں۔‘

امریکی صدر کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران نے ان بم دھماکوں کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہونے کا الزام لگایا ہے۔ ان حملوں کے بعد ایران کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا کہ ان تازہ حملوں کے پیچھے ان دہشت گرد تنظیموں کے شامل ہونے کا اشارہ ملتا ہے جنہیں امریکہ اور اسرائیل کی پشت پناہی حاصل ہے۔

جمعرات کے دن پہلا خودکش حملہ زاہدان میں ایک مسجد کے باہر ہوا اور جب لوگ دھماکے میں متاثر افراد کی مدد کے لیے جمع ہوئے تو فوراً دوسرا خودکش حملہ ہوا۔ خیال ہے کہ ان حملوں میں سنی شدّت پسند تنظیم جندللہ کا ہاتھ ہے۔

ایرانی مقامی میڈیا کے مطابق جند اللہ نے دھماکے کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھماکے گزشتہ ماہ اس کے رہنما کو ایران میں سزائے موت دینے کا بدلہ ہیں۔

لیکن ایران کے مطابق یہ حملے امریکہ اور اسرائیل کے اشاروں پر ہوئے ہیں تاکہ سنی اور شیعہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کیا جا سکیں۔

اسی بارے میں