آسٹریلیا میں عام انتخابات کا اعلان

آسڑیلوی وزیرِ اعظم جولیا گیلارڈ فائل فوٹو

آسٹریلیا کی وزیرِاعظم جولیا گیلارڈ نے ملک میں اکیس اگست کو نئے انتخابات کروانے کا اعلان کیا ہے۔

آسڑیلیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم جولیا گیلارڈ کا کہنا ہے کہ اگست میں ہونے والے انتخابات میں سخت مقابلے کی توقح ہے۔

آسڑیلیا کی حکمران لیبر پارٹی نے انہیں تین ہفتے قبل کیون رُود کی جگہ اپنا رہنما منتخب کیا تھا۔

آسڑیلوی وزیرِاعظم جولیا گیلارڈ نے کینبرہ میں ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہا ’اِن انتخابات کے دوران ہمارے پاس یہ موقع ہو گا کہ ہم ملک کو ترقی کی جانب لے جائیں گے یا تنزلی کا جانب۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ آگے جانے کا مطلب ہے کہ ہم فاضل بجٹ پر قابو پائیں اور مضبوط معیشت کی بنیاد رکھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت اور سمگلنگ کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

دوسری جانب اپوزیشن لبرل پارٹی کے رہنما ٹونی ایبٹ نے لیبر پارٹی میں ہونے والی تبدیلی کو مسترد کرتے ہوئےگیلارڑ پر اپنے پیش رو کی پالیسیاں جاری رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔

سڈنی میں بی بی سی کے نامہ نگار فل مرسر کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات وزیرِ اعظم جولیاگیلارڈ کی سیاسی زندگی کے لیے سخت معرکہ ثابت ہوں گے۔

ملک میں رائے عامہ کےجائزوں کے مطابق حکمران جماعت انتخابات میں برتری حاصل کر لے گی اور وزیرِ اعظم گیلارڈ کو اُمید ہے کہ وہ مسلسل دوسری بار منتخب ہو جائیں گی۔

اسی بارے میں