امریکہ کے غیر قانونی تارکینِ وطن

نور الدین نورو
Image caption نور الدین پندرہ برس پہلے بنگلہ دیش سے امریکہ امیر بننے کا خواب لے کر آئے تھے

نور الدین نورو ایک تھکے ہارے انسان نظر آتے ہیں۔ داڑھی بڑھی ہوئی، آنکھیں سوجی ہوئیں اور زیادہ تر دانت غائب۔ وہ اپنی ستاون سال کی عمر سے کہیں زیادہ کے لگتے ہیں۔

لیکن جب ذکر کریں گرین کارڈ کا تو انکی آنکھوں کی چمک اور ہونٹوں پر مسکراہٹ واپس لوٹ آتی ہے۔ وہ کہتے ہیں : ’مجھے قوی امید ہے کہ ایک نہ ایک دن مجھے گرین کارڈ ضرور مل جائے گا۔‘

نور الدین نورو بنگلہ دیش سے پندرہ سال پہلے امریکہ آئے تھے امیر بننے کا خواب لیکر۔ امیر تو نہ بن سکے لیکن تب سے یہاں غیر قانونی طور رہنے والے لاکھوں لوگوں کی صف میں ضرور شامل ہوگئے۔

امریکہ میں جنوبی اشیا سے آنے والے ایسے لوگوں کی تعداد لگ بھگ ایک لاکھ سے اوپر ہے جبکہ وہاں غیر قانونی طور پر رہنے والے شہریوں کی کل تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ بتائی جاتی ہے جن میں اکثریت لاطینی امریکہ کے باشندوں کی ہے۔

ان دنوں امریکہ میں غیر قانونی طور پر رہنے والے شہریوں کو شہریت دینے پر ایک بحث چھڑی ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں امریکی کانگریس میں ایک بل پیش کیا گیا ہے۔ صدر براک اباما نے ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے ارکان سے اس بل کو پاس کرانے کی اپیل کی ہے لیکن یہ ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ ریببلکن جماعت اسکے حق میں نظر نہیں آتی بلکہ وہ اسکی مخالفت کر رہی ہے۔

لیکن اسکے باوجود غیر قانونی طور پر رہنے والے شہریوں کو گرین کارڈ ملنے کا انتظار ہے۔ امریکی صدر ان سب کے ہیرو ہیں اور آخری امید بھی۔

نورو کہتے ہیں: ’وہ ایک اچھے انسان ہیں اور ہم جیسے لوگوں کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں۔ میں اللہ سے امید کرتا ہوں انہیں اس بل کو پاس کرانے میں کامیابی ملے۔‘

ریحان الدین رینو بھی مسٹر نورو کی طرح بنگلہ دیش سے تقریباً بیس سال پہلے اپنے سنہرے مستقبل کا خواب لیکر یہاں آئے تھے لیکن اب تک ان کا خواب ادھورا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’میں دو سال کینیڈا میں بھٹکتا رہا، سیاسی پناہ کے لیے درخواست بھی دی لیکن وہ مسترد ہو گی۔‘

انکی غیر حاضری میں ان کے سبھی بچوں کی شادیاں بھی ہوگئیں لیکن وہ ان میں شامل نہ ہو سکے۔ انھیں ڈر ہے کی اگر وہ ملک چھوڑ کر گئے تو گرفتار کر لئے جائیں گے۔

Image caption ریحان الدین رینو اپنی تنخواہ کا آدھے سے زیادہ حصہ بنگلہ دیش بھیج دیتے ہیں

نور الدین نورو غمزدہ اسلیے بھی ہیں کہ انکی بیوی گزشتہ سال انتقال کر گئیں۔ وہ اپنی نم آنکھوں سے اس صدمے کو یوں بیان کرتے ہیں: ’میرا سب کچھ لٹ گیا، میں برباد ہو گیا۔ میری بیوی کی آخری خواہش تھی کہ وہ ایک بار میرا دیدار کرے لیکن وہ مجھ سے ملنے کی تمنا لیکر اس دنیا سے چل بسی۔‘

لیکن کیا ان کے بچے انہیں واپس آنے کو نہیں کہتے؟ نورو کہتے ہیں: ’میری بیٹیاں کہتی ہیں پاپا ماں گزر گئی اب آپ واپس آجاؤ لیکن کاغذ لیے بغیر کیسے جانا ہوگا۔‘

دوسری مشکل انہیں یہ لاحق ہے کے وہ بنگلہ دیش میں اپنے خاندان والوں کے خرچ تنہا اٹھاتے ہیں۔ مسٹر نورو ایک خانساماں ہیں اور ہر مہینے بارہ سو ڈالر کماتے ہیں جبکہ مسٹر رینو ایک ویٹر کی حیثیت سے دو ہزار ڈالر سے زیادہ کما لیتے ہے۔ دونوں اپنی تنخواہوں میں سے آدھی سے زیادہ رقم اپنے اپنے گھروں کو بھیج دیتے ہیں۔

مسٹر رینو کی دلیل یہ ہے کے اگر انہیں شہریت دے دی گئی تو وہ سب لوگ حکومت کو ٹیکس ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گے جس سے حکومت کا ہی فائدہ ہو گا۔ انکا یہ بھی کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر رہنے والے باشندوں کے بغیر یہاں کے چھوٹے کاروبار پر بہت برا اثر پڑے گا۔

لیکن انہیں شہریت نہیں ملی تو وہ کیا کریں گے؟ رینو کہتے ہیں ان کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو گیا ہے: ’اس سال اگر شہریت نہیں ملی تو میں واپس بنگلہ دیش چلا جاؤنگا۔‘

لیکن نورو کو یہاں اچھا لگتا ہے اور دوسرے انھیں اپنے خاندان کو کھلانے کی ذمہ داری محسوس ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’میں اگر واپس چلا گیا تو میرے بچوں کے اخراجات کون اٹھاےگا؟‘

اسی بارے میں