ایران خودکش حملہ: چالیس گرفتار

مئی 2009زاہدان دھماکہ
Image caption مئی 2009 میں بھی زاہدان کی مسجد کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا

ایران کی پولیس نے جمعرات کو ایک شعیہ مسجد میں خود کش حملے کے بعد چالیس افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس حملے میں کم از کم ستائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ مشتبہ افراد علاقے میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے تھے۔ تاہم ان گرفتاریوں کو براہ راست زاہدان کے خود کش حملے سے منسلک نہیں کیا گیا ہے۔

سیستان بلوچستان کا شہر زاہدان ایک اکثریتی سنی علاقہ ہے لیکن اس حملے میں ایک شیعہ مسجد کو نشانہ بنایا گیا۔ مسجد پر حملہ امام حسین کی جشن ولادت کے موقع پر رات کے وقت ہوا۔

مرنے والوں میں ایران کے انقلابی گارڈز بھی شامل ہیں۔

سنیچر کوخود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین میں شریک ہزاروں افراد نے مغربی ملکوں کے خلاف نعرے لگائے۔

حملے کی ذمہ داری عسکریت پسند تنظیم جنداللہ ے قبول کر لی ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ واشگٹن اور لندن اس جند اللہ گروپ کی پشت پناہی کررہے ہیں۔تاہم یہ ملک ایےس کسی امکان کی تردید کرتے رہے ہیں۔

امریکی صدر براک اباما نے ایران کے شہر زاہدان میں ہونے والے بم دھماکوں کی پر زور مذمّت کی ہے۔

ایران کے صوبے سیستان بلوچستان میں کئی سالوں سے سنی عسکریت پسند تنظٌیم جند اللہ سرگرم ہے اور پچھلے ماہ ایران نے اس کے رہنما عبد المالک ریگی کو پھانسی چڑھا دی تھی۔

پچھلے سال مئی میں بھی زاہدان کی ایک مسجد پر بم حملہ ہوا تھا جس کے بعد ایران نے تہران میں پاکستانی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے زاہدان کی مسجد میں دھماکہ کرنے والےگروپ جنداللہ گروپ کی کارروائیوں پر احتجاج کیا تھا جو بقول ان کے پا کستان کے صوبے بلوچستان میں سرگرم ہے۔

اسی بارے میں