بغداد: خودکش حملے میں تینتالیس افراد ہلاک

فائل فوٹو،
Image caption ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق حکومت کی حامی ساہوا ملیشیا سے تھا

عراق کے دارالحکومت بغداد میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک خودکش حملے میں کم از کم تینتالیس افراد ہلاک اور چالیس کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق اتوار کو ہونے والے خودکش حملے کا ہدف جنوب مغربی بغداد کے علاقے رادوانیا میں حکومت کی حامی سنی ملیشیا کے ارکان تھے۔

ایک عینی شاہد تحسیر محسن نے برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ہے کہ ’ ایک فوجی بیس کے مرکزی دورازے پر تنخواہیں وصول کرنے کے لیے پچاسی کی قریب لوگ قطار میں کھڑے تھے کہ ایک شخص ان کی جانب بڑھا، اس دوران ایک سکیورٹی اہلکار نے حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے خود کو دھماکے سے اُڑا دیا۔‘

حکام کے مطابق زخمی ہونے والوں میں دو سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

امریکی خبررساں ایجنسی اے پی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کم از کم چھ فوجی بھی شامل ہیں۔ اے پی کے مطابق خودکش حملے میں تیرہ فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

عراق کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق ساہوا ملیشیا سے تھا جو سن دو ہزار چھ میں القاعدہ کے خلاف امریکہ کی مدد کے لیے منظم ہوئے تھے۔

ساہوا ملیشیا نے جب سے القاعدہ کے خلاف کارروائی شروع کی ہے اس وقت سے ان پر وقفے وقفے سے حملے ہوتے رہے ہیں۔

حکام کے مطابق خودکش حملے میں کم از کم تینتالیس افراد ہلاک اور چالیس کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔

عراق میں مارچ دو ہزار نو کے انتخاب کے بعد سے حکومت قائم نہیں ہو سکی ہے۔ انتخابات کے بعد سے عراق میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسی بارے میں