’معنی خیز بات چیت ہونا چاہیئے‘

کرشنا اور قریشی
Image caption دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کسی نتیجہ کے بغیر ختم ہو گئی تھی

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ معنی خیز مذاکرات چاہتے ہیں۔

جمعرات کو اسلام آباد میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والے ملاقات بے نتیجہ ختم ہوگئی تھی البتہ اس ملاقات میں مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس موقع پر بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کو ہندوستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی تھی جو انہوں نے قبول کی تھی۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے ممکنہ دورہ بھارت کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر کہا کہ’ ہم ہر وقت بھارت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن یہ بات چیت معنی خیز ہونی چاہیے‘۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کب بھارت جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس میں کوئی ذہنی تحفظات نہیں ہونے چاہیئں، کھلے دل سے بات ہونی چاہیئے، سارے موضوعات پر بات ہونی چاہیئے تاکہ ٹھوس، معنی خیز اور نتیجہ خیز ملاقات ہو اور صرف گفتاً، نشتناً اور برخاستاً نہ ہو‘۔

جمعرات کے روز ہندوستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان بے نتیجہ رہنے والی ملاقات کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان بات چیت کے لیے ذہنی طور پر مکمل تیار نہیں تھا اور یہ کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان حل طلب تمام مسائل کے بجائے اپنے مرضی کے موضوعات پر بات چیت کرنا چاہتا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ بھارت کی توجہ دہشت گردی پر مرکوز تھی جبکہ پاکستان دہشت گردی کے ساتھ ساتھ متنازعہ ریاست جموں کشمیر، پانی، سرکریک، سیاچن اور امن و سلامتی کے معاملات پر بات چیت کرنا چاہتا تھا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا تھا کہ مذاکرات میں اسی صورت میں پیش رفت ہوسکتی ہے جب ہم تمام مسائل پر بیک وقت آگے بڑھیں۔

شاہ محمود قریشی سے جب پوچھا گیا کہ اس ماحول میں دونوں ممالک کے درمیان پیش رفت کے امکانات ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ دونوں ممالک کی سیاسی صورت حال پچیدہ رہی ہے‘۔

انھوں نے اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی نشت نہیں تھی بلکہ پچھلے ساٹھ سالوں میں کئی مرتبہ ہم ملے ہیں اور ہماری پیش رفت بھی ہوئی اور پیش رفت میں رکاوٹیں بھی آئی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمیں نا امید نہیں ہونا چاہیئے اور تنگ نظری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ دونوں اطراف کی طرف سے یہ عزم ہے کہ صرف بات چیت کے ذریعے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دانشمندانہ راستہ مذاکرات کا راستہ ہے اور ہم اس پر گامزن ہیں اور راستہ نکلے گا۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کشمیر ساٹھ سالوں سے حل طلب ہے لیکن اس تنازعے کے باعث لائن آف کنڑول کے دونوں جانب بسنے والے کشمیریوں کو سکیورٹی کے ساتھ ساتھ معاشی اور اقتصادی مسائل کا سامنا ہے۔

بہت سارے کشمیری یہ کہتے ہیں کہ وہ اس صورت حال کے ہاتھوں یرغمال ہیں اور وہ بھارت اور پاکستان سے یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ یہ دونوں ممالک ان کو اس صورت حال سے نکالنے میں مدد دیں گے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ سے جب پوچھا گیا کہ نصف صدی سے اس تنازعے میں پھسنے ہوئے کشمیریوں کے لیے کوئی امید ہے تو انہوں نے کہا کہ’ ہم چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ کشمیریوں کی خواہشات کے عین مطابق حل ہونا چاہیئے تاکہ طویل مد تی امن اس خطے میں قائم ہوسکے‘۔

اس سوال پر کہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان ایسے عناصر موجود ہیں جو اپنے مفادات کے لئے مسلہ کشمیر کا حل نہیں چاہتے تو انہوں نے کہا کہ ’ہاتھ کی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اور ہر جگہ مختلف قسم کی سوچ کے لوگ ہوتے ہیں لیکن میری رائے میں آج دونوں اطراف میں ایک واضح اکثریت ہے جو سمجھتی ہے کہ صلح اور امن میں سب کی بہتری ہے‘۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بار پھر اپنا موقف دہرایا کہ وہ بھارت کے ساتھ کھلے دل سے ان موضاعات پر بات کرنا چاہتا ہے جو ہندوستان کے دلچپسی کے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بھارت کو بھی وسعت قلبی کے ساتھ ان مسائل پر بات کرنی چاہیے جن کے بارے میں پاکستان کو دلچسپی ہے اور بھارت کو پاکستان کا نقطۂ نظر سننا چاہیئے اور سمجھنا چاہیے۔

اسی بارے میں