شام: یونیورسٹیوں میں نقاب پر پابندی

شامی خواتین
Image caption حالیہ برسوں میں شام کا معاشرہ زیادہ قدامت پسند بنتا جا رہا ہے

شام کے اعلیٰ تعلیم کے وزیر نے کہا ہے کہ پورے چہرے پر نقاب پہننے والی طالبات کا داخلہ ملک کی یونیورسٹی میں ممنوع قرار دے دیا جائے گا۔

غیاث برکت سے منسوب بیان میں کہا گیا کہ کہ یہ عمل تعلیمی اقدار اور شام کی یونیورسٹیوں کی روایت کے خلاف ہے۔

ان کا یہ بیان ایک ویب سائٹ پر شائع کیا گیا ہے اور اس کی وجہ طلباء اور ان کے والدین کی پورے نقاب پر پابندی لگانے کی درخواست بتائی جاتی ہے۔

پورے چہرے کے نقاب نے دوسرے ممالک میں بھی تنازعہ کھڑا کیا ہے۔

دمشق میں قانون کی پروفیسر اور عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن کندا الشامت نے حکومت کے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شام کے اعتدال پسندانہ عقائد سے مطابقت رکھتا ہے۔

انہوں نے العریبیہ ٹی وی کو بتایا کہ کہ ’ہم کبھی انتہائی بائیں یا انتہائی دائیں نہیں گئے۔‘

تاہم دمشق میں بی بی سی کی نامہ نگار لینا سیناب کہتی ہیں کہ یہ حکم نامہ اس طرف بھی ایک اشارہ ہے کہ شامی معاشرہ قدامت پسند ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ سالوں میں شام میں اسلام کے متعلق نئی بیداری دیکھنے میں آئی ہے اور زیادہ سے زیادہ خواتین نے حجاب پہننا شروع کر دیا ہے۔

’ایسا لگتا ہے کہ یہ فیصلہ حکومت کی اپنی سیکیولر شناخت کو مسلط کرنے کی طرف ایک قدم ہے۔‘

اسی بارے میں