چار سال میں مکمل سکیورٹی کنٹرول چاہتے ہیں: کرزئی

ہیلری اور کرزئی
Image caption کانفرنس میں بین الاقوامی برادری افغانستان کے مستقبل کے متعلق صدر حامد کرزئی سے کچھ یقین دہانیاں چاہے گی

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ افغان حکومت ملک کے چند حصوں کی سکیورٹی کا کنٹرول اس سال کے آخر میں لے لے گی جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ دو ہزار چودہ تک ان کا ملک اپنی سکیورٹی کا خود ذمہ دار ہو جائے۔

یہ بات انہوں نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ستر سے زیادہ ممالک کے نمائندے کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر کہی۔ یہ کانفرنس افغانستان کے مستقبل کے متعلق بات کر رہی ہے۔

ایک روزہ کانفرنس میں امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن بھی شرکت کر رہی ہیں۔

افغان صدر نے کہا کہ کانفرنس میں شامل تمام ممالک کو مشترکہ دشمن کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی اہم کامیابیوں کے باوجود افغان حکومت اور عالمی حلیف گڈ گورننس کا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں بدعنوانی اور عدم استحکام کی وجہ غیر ملکی سکیورٹی کمپنیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ پر عزم ہیں کہ ان کی حکومت عالمی برادری کی مدد سے اور ملک میں موجود بڑی تعداد میں معدنی وسائل کو بروئے کار لا کر افغان عوام کی مدد کریں گے۔

بی بی سی کے کابل میں نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حامد کرزئی کا سکیورٹی کے حوالے سے دعوے میں وزن نہیں ہے کیونکہ افغانستان کے زیادہ تر حصے طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا امریکہ افغان عوام کی مدد کرتا رہے گا۔

توقع ہے کہ اس کانفرنس کے دوران افغان صدر حامد کرزئی تعمیرِ نو کے لیے دی جانے والی غیر ملکی امداد پر زیادہ کنٹرول کا مطالبہ کریں گے۔

لیکن افغانستان کو امداد دینے والے اہم ممالک اپنے فوجی افغانستان سے نکالنے سے پہلے افغان حکومت سے چند یقین دہانیاں چاہتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون جو افغان صدر کے ہمراہ اس کانفرنس کے میزبان ہیں چاہتے ہیں کہ حامد کرزئی کانفرنس میں ’ٹھوس ایکشن پلان‘ پیش کریں۔

انہوں نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ وہ صدر حامد کرزئی سے کہتے رہے ہیں کہ وہ گوڈ گورننس خاص کر بدعنوانی کے خاتمے کی کوششیں زیادہ تیز کریں۔

توقع ہے کہ افغان حکومت کانفرنس میں گڈ گورننس، ترقیاتی منصوبوں کو بڑھاوا دینا، قانون کی بالادستی، انسانی حقوق کی حمایت، امدادی رقم کا بہتر استعمال اور امن کی کوششوں کے لیے ابتدائی نقشہ پیش کرے گی۔ اس نقشے میں فوج اور پولیس میں زیادہ بھرتیاں اور سابق جنگوؤں کو معاشرے میں دوبارہ شامل کرنے کا منصوبہ بھی شامل بھی ہو سکتا ہے۔

اس کے بدلے میں افغان حکومت چاہے گی کہ بین الاقوامی برادری اگلے دو سالوں میں کم از کم پچاس فیصد امدادی فنڈز اس کے اختیار میں دے۔

Image caption کابل کانفرنس میں ستر سے زیادہ ممالک کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں

اگرچہ یہ کوئی امدادی کانفرنس نہیں ہے لیکن پھر بھی پہلے ہی امداد کے نئے وعدے کیے گئے ہیں۔ برطانوی حکومت نے افغانستان سے اپنی فوج واپس بلانے کا عمل تیز کرنے کی کوشش میں افغانستان کو دی جانے والی امداد میں چالیس فیصد اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سلسلے میں برطانیہ میں عالمی ترقی کے وزیر اینڈریو میچل نے کہا تھا کہ افغانستان میں استحکام کے قیام کی کوششوں میں اقتصادی امداد کا اہم کردار ہے۔

انکا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت پہلے ہی آئندہ پانچ برسوں میں افغانستان میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر پچاس کروڑ پاؤنڈ خرچ کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لائن کا کہنا ہے کہ سنہ 2001 سے لے کر ابتک افغانستان کو 36 ارب ڈالر کی غیر ملکی امداد دی جا چکی ہے لیکن اس کا ابھی تک بہت کم اثر دیکھنے میں آیا ہے۔

اسی بارے میں