ہیلری کلنٹن یکجہتی کے لیے سیول میں

Image caption ہیلری کلنٹن آج جنوبی کوریا میں اس مقام پر جائیں گی جسے ان کے شوہر نے اپنے دورِ صدارت میں دنیا کی سب سے ڈراؤنی جگہ قرار دیا تھا

امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن شمالی کوریا کو ’جارحیت‘ سے باز رکھنے اور جنوبی کوریا سے حقیقی یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے سیول پہنچی ہیں۔

ہیلری کلنٹن کے ساتھ امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس بھی ہیں اور یہ دونوں بعد میں اس غیر فوجی علاقے میں جائیں گے جو شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان واقع ہے۔ دونوں امریکی وزیروں کے ہمراہ ان کے جنوبی کوریائی ہم منصب بھی ہوں گے۔

اس سال مارچ میں جنوبی کوریا کا ایک بحری جہاز ایک حملے میں ڈوب گیا تھا۔ اس حملے کا الزام شمالی کوریا پر لگایا گیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ کا دورہِ جنوبی کوریا واشنگٹن اور سیول کے درمیان وسیع پیمانے کی فوجی مشقوں کے اعلان کے صرف ایک دن بعد شروع ہوا ہے۔

پہلی مشق اتوار کو جاپان کے سمندر میں ہوگی جس میں جوہری طاقت سے چلنے والا جہاز جارج واشنگٹن اور بیس دوسرے جہاز اور آبدوزیں شامل ہوں گی۔ اس مشق میں ایک سو طیارے اور آٹھ ہزار کے قریب اہلکار شرکت کریں گے۔

چین نے کہا ہے کہ وہ سمندر میں ہر قسم کی غیر ملکی فوجی کارروائیوں پر معترض ہے۔

بدھ کو مسز کلنٹن جنوبی کوریا کے صدر لی مائی ینگ بیک سے ملاقات کریں گی اور پھر اس مقام پر جائیں گی جو شمال میں واقع ہے اور غیر فوجی علاقہ کہلاتا ہے۔ اس مقام کے بارے میں اپنے دورِ صدارات میں بل کلنٹن نے کہا تھا کہ یہ دنیا کا سب سے خطرناک مقام ہے۔

اسی بارے میں