چاڈ کا عمر البشیر کو گرفتار کرنے سے انکار

Image caption ڈارفور کی کشمکش کی وجہ سے چاڈ اور سوڈان کے درمیان ناضی میں اکثر جھڑپیں ہوئی ہیں

چاڈ کی حکومت نے کہا ہے کہ سوڈان کے صدر عمر البشیر کو جو چاڈ کے دورے پر ہیں، گرفتار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

چاڈ کا یہ ردِ عمل ان امکانات کے بعد آیا ہے جن سے بظاہر دکھائی دیتا تھا کہ عمر البشیر کو چاڈ کے دورے کے دوران میں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

عالمی عدالت نے ّڈارفور میں عمر البشیر پر نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزام کے تحت گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کر رکھے ہیں۔

سوڈان کے صدر عالمی عدالت کے احکامات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سرکاری دورے پر قریبی ملک چاڈ گئے ہیں۔

عالمی عدالت نے گزشتہ سال عمر البشیر پر جنگی جرائم کا الزام لگاتے ہوئے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم باوجود اس امر کے کہ چاڈ عالمی عدالت کا رکن ملک ہے، سوڈان کے صدر پہلی مرتبہ وہاں دورے پر گئے ہیں۔

ڈارفور کی کشمکش کی وجہ سے چاڈ اور سوڈان کے درمیان ناضی میں اکثر جھڑپیں ہوئی ہیں۔

عالمی عدالت کی کوئی پولیس نہیں ہے اور اسے گرفتایوں کے لیے رکن ممالک پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ عالمی عدالت کے قوائد کے مطابق چاڈ میں حکام پر لازم ہے کہ وہ عمر البشیر کو گرفتار کریں لیکن چاڈ حکام نے کہا ہے کہ سوڈان کے صدر کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں