شمالی کوریا پر نئی پابندیوں کا فیصلہ

ہیلری کلنٹن، جنوبی کوریا میں
Image caption امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن شمالی کوریا کو ’جارحیت‘ سے باز رکھنے اور جنوبی کوریا سے حقیقی یکجہتی لیے سیول پہنچی ہیں

امریکہ نے جنوبی کوریا کے بحری جہاز کے ڈوبنے کے بعد پیدا ہونے والے بحران کے تناظر میں شمالی کوریا پر نئی پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کے تحت شمالی کوریا پر اسلحے اور مہنگی اشیا کی درآمد پر پابندی ہو گی جس کی وجہ سے جوہری پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملے گی۔

’حملہ شمالی کوریا نے کیا تھا‘

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ایک میڈیا کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے ہیلری کلنٹن نے کہا کہ ’نئے اقدامات کی وجہ سے شمالی کوریا کےجوہری پھیلاؤ کو روکنے کے لیے امریکی صلاحیت میں اضافہ ہو گا، جس کے تحت ایسی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے گا جو شمالی کوریا کے اسلحے کے پروگرام کو وسائل مہیا کرنے کا سبب بنتی ہے، اور ان اقدامات کے تحت شمالی کوریا کو مستقبل میں کسی جارحانہ اقدام سے روکنے میں مدد ملے گی۔‘

سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کے بارے میں محدود معلومات حاصل ہو سکی ہیں، لیکن ان پابندیوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا مقصد بحری جہاز پر مبینہ حملے کی سزا دینا ہے۔

دریں اثنا چین نے جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ بحری مشقوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔

خیال رہے کہ ایک بین الاقوامی انکوائری میں شمالی کوریا پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ایک بحری جہاز کو تباہ کیا ہے۔ مارچ میں ہونے والے اس واقعے میں چھالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ شمالی کوریا نے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔