حریری قتل: حزب اللہ کے ارکان پر الزام

حسن نصراللہ
Image caption حزب اللہ کے رہنما نے حکومت سے موقف میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے

لبنان میں عسکری تنظیم حزب اللہ کے صدر حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کا الزام جن افراد پر عائد کیا گيا ہے ان میں تنظیم کے بھی بعض ارکان شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں اقوام کی حمایت یافتہ کورٹ اس معاملے میں بعض گروہوں کو قصوروار ٹھہرائے گی۔

انہوں نے اس کو امریکہ اور اسرائیل کی ایک سازش قرار دیا ہے۔

دوہزار پانچ میں رفیق حریری کے ساتھ دیگر بائیس افراد بیروت میں ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہوگئےتھے۔

حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ انہیں موجودہ وزیراعظم رفیق حریری کے بیٹے سعد حریری نے بتایا ہے کہ جن لوگوں کو اس کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جائےگا انہیں حزب اللہ کا نمائندہ نہیں بلکہ بدمعاش مانا جائےگا۔

سکیورٹی وجوہات کے سبب ایک ویڈیو کے ذریعے انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل اور امریکہ علاقے میں اپنی مرضی تھوپنا چاہتے ہیں اور یہ اسی منصوبے کا ایک حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی ٹریبونل نے حزب اللہ کو انتہائی حساس صورت حال میں دھکیل دیا ہے لیکن تنظیم کو معلوم ہے کہ اسے اپنا دفاع کیسے کرنا ہے۔

حسن نصراللہ نے لبنان کے وزیر اعظم کو مشورہ دیا ہے کہ قومی مفاد میں وہ اس موقف سے باز آجائے۔

اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں ستمبر تک رپورٹ سامنے آنے کی توقع ہے۔

تنظیم کے بعض ارکان پر الزام عائد کیا جائے گا اور امکان کہ اس سے ملک میں تشدد اور کشیدگی پھیلے گی۔

لیکن حسن نصراللہ نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ اس معاملے سے توجہ ہٹانے کے لیے اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ قتل کے لیے شام کے کسی شخص پر الزام عائد نہیں کیا گیا جن پر اب تک قتل کا شبہہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔ بقول ان کے یہ ٹریبونل سیاسی نکتہ نظر سے کام کر رہا ہے۔

اسی بارے میں