کمیشن تحقیقات سے عدم تعاون پر غور

غزہ امدادی جہاز
Image caption اسرائیلی حکومت کے اعلی حکام نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر جانب داری کا الزام عائد کیا ہے

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی طرف سے غزہ امداد لے جانے والے بحری جہازوں پر اسرائیلی فوج کے حملے کی تحقیقات کے لیے جو تین رکنی کمیشن قائم کیا گیا ہے اسرائیل اس سے تعاون نہ کرنے پر غور کر رہا ہے۔

اسرائیل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکومت کے اعلیٰ حکام نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جانب دار ہے۔

اسرائیل نے حال ہی میں اپنے طور پر اس حملے کی تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ترکی سے سمندر کے راستے فلسطینی علاقے غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے کارکنوں کے قافلے پر اسرائیلی حملے میں ترکی سے تعلق رکھنے والے نو کارکن ہلاک ہو گئے تھے۔

اسرائیل نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس حملے کی علیحدہ تحقیقات کرانے کی کوششوں کو روکیں۔

اس دوران سپین سے تعلق رکھنے والے دو امدادی کارکن اور ایک صحافی جو امدادی کشتی میں سوار تھے اور جنہیں اسرائیلی فوج نے گرفتار کر لیا تھا اسرائیلی وزیراعظم کے کے خلاف قانونی کارروائی کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ افراد وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو، اسرائیلی کابینہ کے چھ وزرا اور بحریہ کے کمانڈر کے خلاف غیر قانونی حراست، جسمانی تشدد اور جلاوطنی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرانا چاہتے ہیں۔

اس سے پہلے اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ امدادی قافلے پر حملے کے دوران پکڑی جانے والی کشتیاں ترکی کو واپس کرنے پر تیار ہے۔

اسی بارے میں