افغانستان:’شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات‘

فائل فوٹو، ایک متاثرہ افغان گھر
Image caption افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کو کم رکھنے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے

افغانستان میں بین الاقوامی افواج کا کہنا ہے کہ وہ ایک فضائی حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات کی ہنگامی بنیادوں پر تحقیقات کر رہے ہیں۔

جمعہ کو افغانستان کے صوبے ہلمند میں ایک فضائی حملے میں کم از کم پینتالیس شہریوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

نیٹو نے ان اطلاعات کے حوالے سے تفتیش کی تھی لیکن انھیں اس ضمن میں کوئی شواہد حاصل نہیں ہوئے تھے۔

لیکن بی بی سی کے ایک صحافی نے رگئی گاوں کا دورہ کیا تو وہاں متعدد لوگوں نے کہا کہ انھوں نے ہلاکتوں کا سانحہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

جس وقت مبینہ فضائی حملہ کیا گیا اس وقت قریبی علاقے میں لڑائی سے متاثرہ افراد پناہ لینے کے لیے گاوں آئے تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ واقعہ دن کی روشنی میں اس وقت پیش آیا۔

سولہ سالہ محمد خان کے مطابق واقعے سے پہلے ایک ہیلی کاپٹر نے گاوں کے اوپر چکر لگایا۔ محمد خان کے مطابق انھوں نے بچوں کو کہا کہ وہ محفوظ مقام پر چلے جائیں لیکن ان کی ماں نے کہا کہ دوسروں کی پرواہ نہ کروں۔

محمد خان کے مطابق انھوں نے دیوار کے ساتھ پناہ لے لی جس کی وجہ سے جب فضائی حملہ شروع ہوا تو وہ محفوظ رہے۔’ میں نے اپنے گھر پر گرنے والے راکٹ کی آواز سنی، میں خوفزدہ ہو کر اپنے والد کے ساتھ بھاگا تو دیکھا کہ ہر طرف لاشیں بکھری ہوئیں تھیں، یہاں تک وہ بھی ایک لاش کے اوپر کھڑا تھے۔‘

ہلاک ہونے والوں میں سے ایک ان کے بھائی تھے۔’ بھائی جس وقت ہلاک ہوا اس وقت وہ گھر میں سویا ہوا تھا۔‘

حملے کے بعد مقامی لوگوں نے ملبے تلے افراد کو باہر نکلا اور زخمی افراد کو ہسپتال منتقل کیا۔

انھوں نے کہا کہ لاشیوں کو ملبے سے باہر نکالنے کے لیے رات دیر تک امدادی کارروائی جاری رہی۔ ہلاک ہونے والے انتالیس افراد کو دفنا دیا گیا جب کہ چھ افراد کے بارے میں کہا جا رہا کہ وہ اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

ایک دوسرے شہری حاجی رحیم کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے افراد کو دن کی روشنی میں دفنا گیا۔ حاجی رحیم کے آنسو تھمنے کو نہیں تھے کے مطابق وہ ساری رات سو نہیں پائے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ دوسرے دن وہ دوسرے دیہاتوں کے ساتھ مل کر نیٹو کو اس واقعے کی اطلاع دینے کے لیے گئے۔

حاجی رحیم کے مطابق’ وہ چھوٹی سی چھوٹی سے چیز کو دیکھ سکتے ہیں، لیکن جس وقت وہ بمباری کر رہے تھے اس وقت عورتوں اور بچوں کو کیسے نہیں دیکھ سکے؟

رواں سال اتنی بڑی تعداد میں عام شہریوں کی ہلاکت کے واقعات بہت کم ہو سکتے ہیں کیونکہ اس سال عام شہریوں کے جانی نقصان کو کم سے کم رکھنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔

افغانستان میں گزشتہ کئی ماہ سے عام شہریوں کی ہلاکتوں میں کمی واقع ہوئی ہے، جنرل میک کرسٹل کی پالیسی کی تحت بہت کم تعداد میں فضائی حملے کیے جا رہے ہیں۔

جنرل میک کرسٹل کو اوباما انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکاروں پر تنقید کرنے کی وجہ سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

افغانستان میں بین الاقوامی افواج کے ترجمان لیفٹینٹ کرنل کرس ہوگس کا کہنا ہے کہ ’ نیٹو اور صوبے کے گورنر پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی نے مقامی رہنماوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ اس تفتیش کے مطابق اتحادی افواج کی سنگین میں کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ’ ہم عام شہریوں کی ہلاکتوں کے الزامات کو بڑی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ ہم کارروائی کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی افواج کے لیے افغان شہریوں کی حفاظت بہت اہم ہے۔‘

اسی بارے میں